حیدرآباد (دکن فائلز) سی ایم آر انجینئرنگ کالج کی طالبات نے ہاسٹل کے عملے پر باتھ روم میں خفیہ کیمرہ سے ان کے ویڈیوز بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا۔ تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر احتجاج کررہے طلبا کو سمجھانے کی کوشش کی اور اس سلسلہ میں سخت کاروائی کرنے کا تیقن دیا۔ تفصیلات کے مطابق تلنگانہ میں حیدرآباد کے مضافات میں واقع سی ایم آر انجینئرنگ کالج کی طالبات نے کل رات زبردست احتجاج شروع کیا جو ابھی بھی جاری ہے۔ گرلز ہاسٹل کی کچھ طالبات نے الزام عائد کیا کہ کوکنگ اسٹاف نے چہارشنبہ کے روز ان کے باتھ رومز میں خفیہ کیمرہ سے ویڈیوز ریکارڈ کیں۔
جیسے ہی یہ بات سامنے آئی ہاسٹل میں موجود طالبات نے بڑے پیمانہ پر احتجاج شروع کردیا، تاہم احتجاج اس وقت شدت اختیار کرگیا جب طلبا یونین کے دیگر طلبا بھی کالج پہنچ گئے اور احتجاج شروع کردیا۔ کالج کے اندر طالبات نے مظاہرہ کیا تو کالج کے باہر بھی درجنوں طلبا نے احتجاج کیا۔ اس موقع پر پولیس اہلکاروں کو طلبا کو سمجھاتے ہوئے دیکھا گیا۔
طالبات نے کیمپس میں سیکوریٹی کوتاہیوں پر بھی احتجاج کیا۔ طالبات نے مبینہ طور پر طالبات کے باتھ روم میں ویڈیو ریکارڈنگ کے علاوہ کے ہاسٹل وارڈن اور عملے کے رویے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/1874761301920280836
نیوز نائن کی رپورٹ کے مطابق طالبات کو ہاسٹل کے باتھ روم میں ایک خفیہ کیمرہ ملا اور باتھ روم کے وینٹی لیٹر کے آئینہ پر ہاتھ کے نشان بھی پائے گئے جس سے ظاہر ہورہا تھا کہ کیمرہ باہر سے باتھ روم میں نصب کیا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ طالبات کی شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔ کوکنگ اسٹاف کے چار ارکان پر اس طرح کی حرکت کرنے کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
وہیں نیوز نائن کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے شکایات کی بنیاد پر مقدمہ درج کرکے تقریباً سات افراد کو حراست میں لیا ہے اور ان کے قبضہ سے 12 موبائل فونز قبضہ میں لئے ہیں۔


