بڑی خبر: امید پورٹل پر مودی حکومت کا بڑا اعلان، وقف املاک رجسٹریشن کےلئے تین ماہ کی مہلت

حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور و اقلیتی بہبود، کیرن رجیجو نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وقف املاک کی UMEED پورٹل پر رجسٹریشن میں تاخیر پر آج سے تین ماہ تک نہ کوئی جرمانہ عائد کیا جائے گا اور نہ ہی سخت کارروائی کی جائے گی۔ اگرچہ وقف املاک کی رجسٹریشن کی مقررہ مدت 5 دسمبر کو ختم ہوگئی ہے، لیکن مرکز نے زمینی حقائق اور نمائندوں کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ نرمی فراہم کی ہے۔

رجیجو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’آج آخری دن ہے، لیکن لاکھوں املاک ابھی تک رجسٹر نہیں ہوئیں۔ کئی اراکینِ پارلیمنٹ اور کمیونٹی نمائندوں نے بتایا کہ متولیوں کو عمل مکمل کرنے میں حقیقی مشکلات پیش آرہی ہیں، اسی لیے حکومت نے تین ماہ تک کوئی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

وزیر نے واضح کیا کہ حکومت نے وقف املاک کی رجسٹریشن کی مدت میں توسیع کی درخواست سپریم کورٹ کو دی تھی، لیکن عدالت نے اپنے گزشتہ حکم کی بنیاد پر کسی قسم کی اضافی مہلت دینے سے انکار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ قانون کے تحت چھ ماہ کا وقت پہلے ہی دیا جا چکا ہے، جسے مزید نہیں بڑھایا جا سکتا۔ البتہ وقف (ترمیمی) قانون کے مطابق متعلقہ وقف ٹریبونل مخصوص اور معقول وجوہات کی بنا پر مزید چھ ماہ کی اضافی مہلت دے سکتا ہے۔

کرن رجیجو نے متولیوں کو مشورہ دیا کہ اگر وہ اگلے تین ماہ میں بھی رجسٹریشن مکمل نہ کر سکیں تو وہ ٹریبونل سے رجوع کریں، جو ان کے حالات کا جائزہ لے کر فیصلہ کر سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 1 لاکھ 51 ہزار سے زائد وقف املاک UMEED پورٹل پر رجسٹر ہو چکی ہیں، تاہم یہ تعداد ملک میں موجود تقریباً 9 لاکھ املاک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ انہوں نے ریاستوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کرناٹک تقریباً 50 ہزار رجسٹریشن کے ساتھ سرفہرست ہے، جبکہ پنجاب، جموں و کشمیر اور چند دیگر ریاستوں کی کارکردگی بھی بہتر رہی، لیکن کئی بڑی ریاستوں نے تیزی نہیں دکھائی۔

رجیجو نے زور دے کر کہا کہ حکومت کا بنیادی مقصد سختی کرنا نہیں بلکہ شفافیت اور وقف املاک کے مؤثر تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وقف کی یہ املاک اللہ کے نام پر فلاحی مقاصد کے لیے وقف ہوتی ہیں، خصوصاً غریب، یتیم، بیواں اور پسماندہ طبقے کے مسلمانوں کی بہتری کے لیے۔ ان کا درست انتظام انتہائی ضروری ہے۔‘‘ وزیر نے مزید کہا کہ کئی جگہوں پر دستاویزات کی کمی، ریکارڈ کی عدم موجودگی، تنازعات یا تکنیکی مسائل کی وجہ سے مشکلات پیدا ہوئیں، اور ایسے معاملات میں ٹریبونل ہی مناسب پلیٹ فارم ہے جو قانونی طور پر فیصلہ کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یکم دسمبر کو سپریم کورٹ نے ان درخواستوں کو مسترد کر دیا تھا جن میں رجسٹریشن کی مدت میں توسیع کی مانگ کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ وقف قانون میں ٹریبونل کے ذریعے مزید مہلت حاصل کرنے کی گنجائش موجود ہے، اس لیے عدالت عمومی توسیع نہیں دے سکتی۔

قانونی فریقین جس میں سینیئر وکلا کپل سبل، ابیشک منو سنگھوی، ایم آر شمشاد اور نظام پاشا شامل تھے نے دلیل دی تھی کہ چھ ماہ کی مدت غیر عملی تھی کیونکہ ترمیم شدہ قانون 8 اپریل سے نافذ ہوا، مگر پورٹل 6 جون کو فعال ہوا اور قواعد 3 جولائی کو نوٹیفائی کیے گئے۔ اس کے باوجود عدالت نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے توسیع نہ دینے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

مرکزی حکومت کی جانب سے تین ماہ کی نرمی سے متوقع ہے کہ ملک بھر کے متولّی اب فوری دباؤ کے بغیر اپنی املاک کو پورٹل پر رجسٹر کر سکیں گے۔

بڑی خبر: امید پورٹل میں تکنیکی خرابی سے لاکھوں وقف املاک کو خطرہ لاحق: وزیر جارج کیریان سے مسلم پرسنل لا بورڈ کی اپیل

اپنا تبصرہ بھیجیں