حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ایک اور فیصلے میں واضح کیا کہ بدلتے سماجی حالات میں گھریلو ذمہ داریوں کو پرانے نظریات سے نہیں بلکہ باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ دیکھنا ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ صرف اس بنیاد پر کہ بیوی کھانا نہیں پکاتی یا ساس کے ساتھ گھریلو کاموں میں تعاون نہیں کرتی، اسے ذہنی ظلم قرار دے کر طلاق نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے نشاندہی کی کہ شوہر اور بیوی دونوں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کر رہے ہوں تو گھریلو کاموں کی تقسیم فطری بات ہے۔ بنچ نے کہا کہ شادی شدہ زندگی میں معمولی تنازعات اور اختلافات عام ہیں اور انہیں بنیاد بنا کر ازدواجی رشتہ ختم کرنا درست نہیں۔
ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے شوہر کی اپیل مسترد کر دی اور کہا کہ ازدواجی زندگی میں صبر، برداشت اور سمجھوتے کی ضرورت ہوتی ہے۔


