حیدرآباد (دکن فائلز) معروف نیوز پورٹل نیوز لانڈری کی ایک انتہائی تشویشناک رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ راجستھان کے جے پور کی ہوا محل اسمبلی حلقہ میں ایک بوتھ لیول افسر (BLO) پر مسلم ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے حذف کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ مبینہ دباؤ سے تنگ آ کر افسر نے خودکشی کی دھمکی تک دے دی، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
ویڈیو میں کیرتی کمار، جو ہوا محل اسمبلی حلقہ کے ایک بوتھ لیول افسر ہیں، فون پر چیختے ہوئے کہتے سنے جا سکتے ہیں:
“میں کلکٹر کے دفتر جاؤں گا اور وہیں خودکشی کر لوں گا۔”
کیرتی کمار کا الزام ہے کہ انہیں بی جے پی کی جانب سے داخل کی گئی اعتراضات کی درخواستوں پر کام کرنے کے لیے دھمکایا جا رہا ہے، جن کے تحت ان کے بوتھ کے 470 ووٹروں — جو تقریباً 40 فیصد بنتے ہیں — کے نام مسودہ ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام اعتراضات خاص طور پر مسلم ووٹروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، حالانکہ وہ ان تمام ووٹروں کی تصدیق پہلے ہی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے دوران کر چکے ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ ہوا محل ایک مسلم اکثریتی حلقہ ہے، جہاں بی جے پی کے ایم ایل اے بالمکُند آچاریہ، جنہیں مقامی طور پر ’مہاراج‘ کہا جاتا ہے، نے 2023 کے اسمبلی انتخابات میں محض 974 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔ بالمکُند آچاریہ، جو جے پور کے دکشن مُکھی جی بالاجی مندر کے چیف پجاری بھی ہیں، ماضی میں مسلمانوں کے خلاف بیانات اور اقدامات کے سبب متعدد تنازعات میں گھر چکے ہیں۔
’پوری بستی کے ووٹر ہی ہٹا دوں؟‘
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں کیرتی کمار، بی جے پی کونسلر سریش سینی سے فون پر کہتے ہیں: “شاید میں پوری بستی کے ووٹر ہی ہٹا دوں، اس سے آپ کو اور مہاراج کو الیکشن جیتنے میں آسانی ہو جائے گی۔”
کیرتی کمار، جو ایک سرکاری اسکول میں انگریزی کے استاد بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ SIR کے دوران اضافی کام کے باعث ان کے طلبہ پہلے ہی متاثر ہو چکے ہیں۔ اب انہیں ’’سینئر الیکشن افسران‘‘ کی جانب سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 470 اعتراضات کو صرف دو دن میں نمٹائیں، جبکہ ہر فارم کو ڈیجیٹائز کرنے میں تقریباً 10 منٹ لگتے ہیں، اس حساب سے یہ کام کم از کم 78 گھنٹے میں مکمل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: “پھر مجھے دوبارہ فیلڈ میں جا کر ہر ووٹر کی تصدیق کرنی ہوگی۔ یہ تو پوری مشق دوبارہ دہرانے جیسا ہے۔ میں یہ نہیں کر سکتا۔ SIR میں ہی ہمارا خون جل چکا ہے۔ بی جے پی کے لیڈر ہمیں معطل کروانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ میں نے اپنے سینئرز کو صاف بتا دیا ہے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔”
صرف مسلم ووٹروں پر اعتراض؟
ہوا محل کے کم از کم پانچ پڑوسی بوتھوں کے بی ایل اوز، جہاں اکثریت ہندو ووٹروں کی ہے، نے بتایا کہ انہیں کسی قسم کے اعتراضات موصول نہیں ہوئے۔ علاقہ کی ایک اور بی ایل او، سرسوتی مینا، نے دعویٰ کیا کہ ان کے بوتھ پر 158 ووٹروں کے خلاف اعتراضات دائر کیے گئے، اور وہ سب کے سب مسلم ووٹروں کے خلاف تھے۔
انہوں نے کہا: “یہ تمام ووٹر وہیں رہتے ہیں۔ ہم نے SIR کے دوران ان کی تصدیق کی ہے۔ یہ غلط ہے۔ ہم پر اس طرح دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔” ہوا محل اسمبلی حلقہ میں کل 264 بوتھ ہیں۔
راجستھان میں BLOs کی اموات
رپورٹ کے مطابق، راجستھان میں کم از کم تین بوتھ لیول افسران مبینہ طور پر کام کے شدید دباؤ اور SIR کے ناقص نفاذ — جن میں ایپ کی خرابیاں اور ناکافی تربیت شامل ہیں — کے دوران جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
بی جے پی کونسلر کا مؤقف
بی جے پی کونسلر سریش سینی نے نیوز لانڈری کو بتایا کہ پارٹی کے بوتھ لیول ایجنٹ نے 8 اور 9 جنوری کو کیرتی کمار کے بوتھ پر 467 ووٹروں کے خلاف اعتراضات داخل کیے، جن میں زیادہ تر مسلم ووٹر شامل تھے۔
سریش سینی نے کہا: “میرا مسلم ووٹروں کے خلاف کوئی ایجنڈا نہیں ہے، لیکن مجھے پورا یقین ہے کہ یہ ووٹر یہاں نہیں رہتے۔ ہم مزید ووٹروں کے خلاف بھی اعتراضات داخل کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے ڈیڈ لائن بڑھانے کی درخواست کریں گے۔”
الیکشن کمیشن کے 2023 کے الیکٹورل رولز مینول کے مطابق، کلیمز اور اعتراضات کی مدت میں کوئی بھی بوتھ لیول ایجنٹ ایک دن میں 10 سے زیادہ اعتراضات داخل نہیں کر سکتا۔ اگر پورے ریویژن پیریڈ میں 30 سے زیادہ اعتراضات داخل ہوں تو الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر یا اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر کو ذاتی طور پر جانچ کرنا لازمی ہے۔
جب اس ضابطے کے بارے میں پوچھا گیا تو سریش سینی نے لاعلمی ظاہر کی۔ بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ وشال سینی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دو دن میں کم از کم 200 ووٹروں کے خلاف اعتراضات داخل کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی ’’زمینی جانچ‘‘ میں معلوم ہوا کہ SIR کے دوران دوسرے علاقوں کے ووٹروں کو اس بوتھ میں منتقل کیا گیا، حالانکہ وہ وہاں رہتے نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: “چونکہ کالونی میں زیادہ تر ووٹر مسلمان ہیں، اس لیے اعتراضات بھی زیادہ تر مسلمانوں کے خلاف ہونا فطری ہے۔”
الیکشن افسران کی خاموشی
مسودہ ووٹر لسٹ 16 دسمبر کو شائع کی گئی تھی۔ اس کے بعد کلیمز اور اعتراضات کا مرحلہ شروع ہوا، جو آج ختم ہو رہا ہے۔ ضلع الیکشن افسران اب 7 فروری تک اعتراضات کی جانچ کریں گے۔ اس دوران BLOs کو ہر اعتراض پر نئی زمینی تصدیق کرنی ہوگی۔ اگر کوئی ووٹر دستیاب نہ ہو تو اسے کلکٹر آفس میں سماعت کے لیے نوٹس دیا جاتا ہے، جس کے بعد اس کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
الیکٹورل رجسٹریشن آفیسر سریتا شرما اور حلقہ کے چاروں اسسٹنٹ الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرز کو فون کیا گیا، لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ سریتا شرما کو سوالنامہ بھیجا گیا ہے۔ جواب موصول ہونے پر رپورٹ کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
ایم ایل اے بالمکُند آچاریہ کو بھی سوالنامہ ارسال کیا گیا ہے۔ جواب آنے پر رپورٹ میں شامل کیا جائے گا۔
نوٹ: یہ خبر نیوز لانڈری کی تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ پر مبنی ہے۔ رپورٹ کا لنک: https://www.newslaundry.com/2026/01/15/ill-kill-myself-rajasthan-blo-says-pressure-to-delete-muslim-votes-in-seat-bjp-won-with-thin-margin


