حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ کے ضلع وقار آباد میں ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں محبت کی شادی کے لیے والدین کی مخالفت سے تنگ آکر ایک بیٹی نے اپنے ہی ماں باپ کو زہریلا انجکشن دے کر قتل کر دیا۔ یہ افسوسناک واقعہ بنتوارم منڈل کے یاچارم گاؤں میں پیش آیا۔
پولیس کے مطابق دسرَتھ اور لکشمی میاں بیوی تھے، جن کے ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔ ان کی چھوٹی بیٹی سریکھا، سنگاریڈی کے ایک نجی اسپتال میں بطور نرس کام کرتی تھی۔ دورانِ ملازمت وہ ایک نوجوان سے محبت کرنے لگی، تاہم والدین اس رشتہ پر رضامند نہیں تھے۔
اہلِ خانہ کے مطابق والدین نے سریکھا کی شادی کسی اور نوجوان سے طے کرنے کے لیے پیر کو رشتہ دیکھنے کا پروگرام رکھا تھا۔ اسی دباؤ اور اپنے محبوب سے شادی کی ضد میں سریکھا نے انتہائی سنگین قدم اٹھایا۔ اس نے گھٹنوں کے درد کا بہانہ بنا کر اتوار کے روز اپنے والدین کو علیحدہ علیحدہ زہریلا انجکشن (کیٹامین) دیا، جس کے نتیجے میں دونوں موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔
والدین کی موت کے بعد سریکھا نے دونوں لاشوں کو گھر میں ایک ہی جگہ رکھ دیا اور پھر اپنے بھائی اشوک کو فون کر کے کہا کہ ماں باپ بے ہوش ہو کر گر پڑے ہیں۔ اشوک کے موقع پر پہنچنے پر معاملہ مشتبہ لگا، جس پر اس نے پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس کی تفتیش کے دوران سنسنی خیز حقائق سامنے آئے اور سریکھا نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والے انجکشن ضبط کر کے ملزمہ کو حراست میں لے لیا ہے۔ ڈی ایس پی وقارآباد سرینواس ریڈی کے مطابق یہ قتل صرف اس لیے کیا گیا تاکہ شادی کی بات آگے نہ بڑھے۔ واقعہ نے پورے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔


