اوڈیشہ میں مسلم اسٹریٹ وینڈرز پر ہندوتوا شدت پسندوں کا حملہ، ’جے ایس آر‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا

!حیدرآباد (دکن فائلز) مسلم مرر کی رپورٹ کی مطابق اوڈیشہ کے مختلف اضلاع میں مسلم اسٹریٹ وینڈرز کے خلاف دائیں بازو سے وابستہ گروہوں کی جانب سے مبینہ ہراسانی اور تشدد کے واقعات سامنے آنے کے بعد ریاست میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ان واقعات کو ناقدین بی جے پی کی زیر قیادت وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی حکومت کے دور میں اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے بڑھتے رجحان سے جوڑ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک مسلم خوانچہ فروش کو ہندوتوا نظریات سے وابستہ مشتعل ہجوم کے گھیرے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک شخص لکڑی کا نوکیلا آلہ دکاندار کے چہرے کے قریب لہراتے ہوئے اسے گالی دیتا ہے، اس کی والدہ کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کرتا ہے اور اسے زبردستی “جے ایس آر” کا نعرہ لگانے پر مجبور کرتا ہے۔ جان کے خوف سے دکاندار نے صورتحال کو ٹھنڈا کرنے کے لیے نعرہ لگایا۔

اسی طرح مایوربھنج ضلع میں ایک اور واقعے میں بجرنگ دل کے کارکنان پر ایک مسلم اسٹریٹ وینڈر کو بے رحمی سے مارنے پیٹنے کا الزام ہے۔ متاثرہ شخص کو “بنگلہ دیشی” قرار دے کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لاٹھیوں اور دیگر اشیاء سے مارا گیا اور زبردستی مذہبی نعرے لگوائے گئے۔ اطلاعات کے مطابق یہ حملہ محض اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر کیا گیا۔

ان واقعات کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جس کے بعد انسانی حقوق کارکنوں اور سماجی تنظیموں نے اسے اقلیتی طبقے کے خلاف منظم ویجلینٹ ازم قرار دیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں دیگر ریاستوں سے بھی اسی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں مسلم دکانداروں کو “باہر کا” یا “غیر قانونی” کہہ کر نشانہ بنایا گیا۔

پولیس کی جانب سے کئی معاملات میں مؤثر کارروائی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں، جس سے عوامی مقامات پر کام کرنے والے مہاجر تاجروں اور اقلیتی برادریوں کے تحفظ پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق یہ واقعات اوڈیشہ میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور سیکولر اقدار کے تحفظ کے لیے فوری اور سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں