(چینئی میں مقیم صحافی سید علی مجتبیٰ کا مضمون مسلم مرر میں شائع ہوا)
ہندوستان میں اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی پسماندگی کو دور کرنے کے لیے قائم کی گئی وزارتِ اقلیتی امور ایک بار پھر بجٹ میں معمولی اور ناکافی فنڈز کے سبب تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ یہ وزارت 2006 میں اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے سچر کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر قائم کی تھی، جس میں مسلمانوں کو ملک کا سب سے زیادہ تعلیمی و اقتصادی طور پر پسماندہ طبقہ قرار دیا گیا تھا۔
وزارت کا مقصد اسکالرشپس، ہنر مندی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور روزگار کے مواقع کے ذریعہ اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا تھا۔ تاہم 2014 کے بعد سے نہ صرف بجٹ میں مسلسل کٹوتی دیکھنے میں آئی بلکہ کئی اہم اسکیمیں یا تو بند کر دی گئیں یا ان پر مکمل خرچ ہی نہیں ہو سکا۔
یونین بجٹ 2026-27 میں اقلیتوں کی فلاح کے لیے کل 3,400 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ محض “اعداد و شمار کا کھیل” ہے، جس سے حقیقی فلاح ممکن نہیں۔ اہم اسکیم پردھان منتری وِراسَت کا سَموردھن کے بجٹ میں بھی کمی کی گئی ہے، جس کے لیے رواں سال 303.27 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ رقم 312 کروڑ تھی۔
پری میٹرک اسکالرشپ کے لیے 198 کروڑ اور پوسٹ میٹرک کے لیے 581 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں، جو بڑھتی ہوئی تعلیمی ضروریات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی قرار دیے جا رہے ہیں۔ وقف بورڈ سے متعلق ترقیاتی اسکیم اور شہری وقف املاک ترقی اسکیم کے لیے اگرچہ رقم بڑھا کر 32 کروڑ کی گئی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ وقف ترمیمی قانون کے تناظر میں محض انتظامی ضرورت ہے، نہ کہ اقلیتوں کی فلاح کے لیے کسی سنجیدہ وژن کا اظہار۔
تعلیمی و سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں وزارتِ اقلیتی امور کے فنڈز بدعنوانی، تاخیر اور عدم نفاذ کی نذر ہوتے رہے ہیں، جس سے حکومت کی نیت پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر یہی روش برقرار رہی تو یہ صرف بجٹ میں کمی نہیں بلکہ اقلیتوں کو قومی دھارے سے جوڑنے کی دہائیوں پر محیط کوششوں کا زوال ثابت ہوگا۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر حکومت نے سنجیدگی سے اقلیتوں کی تعلیم، روزگار اور سماجی ترقی پر مناسب بجٹ مختص نہ کیا گیا تو اس کے نتائج صرف اقلیتوں ہی نہیں بلکہ ملک کی مجموعی سماجی ہم آہنگی کے لیے بھی نقصان دہ ہوں گے۔


