ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں ہوں گے، ٹرمپ کا نیا الٹی میٹم ۔۔ ایران کا پلٹ وار، کہا ایرانی قوم انقلابی سوچ کے تحت متحد

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح اعلان کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرے گا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو فوجی کارروائیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں، ایران کو پہلے ہی روایتی حملوں کے ذریعے “بہت نقصان” پہنچایا جا چکا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال “کسی کو بھی نہیں کرنا چاہیے”

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب عالمی سطح پر خدشہ تھا کہ جنگ ایٹمی تصادم کی طرف جا سکتی ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہاکہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو باقی ماندہ فوجی اہداف کو بھی نشانہ بنایا جائے گا، امریکہ کے مطابق ایران کے تقریباً 75 فیصد فوجی اہداف پہلے ہی تباہ کیے جا چکے ہیں او رہم اسے فوجی طور پر ختم بھی کر سکتے ہیں جیسی سخت وارننگ دی گئی۔

اس سے قبل بھی ٹرمپ متعدد بار ایران کو ڈیڈ لائن دے چکے ہیں اور دھمکی دی تھی کہ “بمباری شروع ہو سکتی ہے” اگر شرائط پوری نہ ہوئیں۔

صورتحال صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ میدانِ عمل میں بھی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ امریکی بحریہ کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر ایرانی کشتیاں بارودی سرنگیں بچھائیں تو انہیں تباہ کر دیا جائے۔ آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ امریکی بلاکیڈ کے باعث ایران کی تیل برآمدات شدید متاثر ہو رہی ہیں۔

ایران نے بھی پلٹ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جھکنے والے نہیں ہیں۔ ایرانی قیادت کی جانب سے ایک سخت اور واضح پیغام میں قومی اتحاد پر زور دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں کسی قسم کی داخلی تقسیم موجود نہیں اور پوری قوم ایک انقلابی سوچ کے تحت متحد ہے۔ قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک کی خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور مخالف فریق کو اپنے اقدامات پر ندامت اٹھانا پڑے گی۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں ایران کے پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ ایران میں کوئی انتہا پسند یا اعتدال پسند نہیں بل کہ تمام شہری ایک قوم اور انقلابی شناخت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم اور حکومت کے مضبوط اتحاد اور رہبرِ انقلاب کی مکمل اطاعت کے ساتھ ایران ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا اور دشمن کو اس کے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کرے گا۔ باقر قالیباف کے مطابق ایران کا راستہ ایک ہی ہے، ایک خدا، ایک قوم، ایک رہنما اور فتح کے راستے پر مبنی ہے اور یہی راستہ ملک کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں