حیدرآباد (دکن فائلز) یکم مئی 2026 سے ملک بھر میں مہنگائی کا ایک اور بڑا جھٹکا سامنے آیا ہے، جہاں کمرشل ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمت میں یکدم 993 روپے کا بھاری اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد کاروباری شعبے خصوصاً ہوٹل، ریسٹورنٹس اور چھوٹے کاروبار شدید متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
سرکاری تیل کمپنیوں کے مطابق 19 کلوگرام والے کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت اب بڑھ کر تقریباً 3,071 روپے تک پہنچ گئی ہے، جو پہلے تقریباً 2,078 روپے تھی۔
گھریلو صارفین کو وقتی راحت ضرور ملی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس بڑے اضافے کے باوجود 14.2 کلوگرام گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، جس سے عام صارفین کو وقتی ریلیف ملا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ رواں سال میں کمرشل گیس سلنڈر کی قیمت میں تیسرا بڑا اضافہ ہے۔ اس سے قبل مارچ اور اپریل میں بھی قیمتوں میں اضافہ کیا جا چکا ہے، جو عالمی حالات خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے۔
اس اضافے کا براہ راست اثر ہوٹلنگ انڈسٹری، فوڈ بزنس اور دیگر تجارتی سرگرمیوں پر پڑے گا، اور امکان ہے کہ اس کا بوجھ صارفین تک منتقل کیا جائے گا، جس سے باہر کھانے پینے کی اشیاء مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔
کچھ رپورٹس کے مطابق 5 کلوگرام کے چھوٹے سلنڈر (چھوٹو سلنڈر) کی قیمت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس سے کم آمدنی والے افراد اور مزدور طبقہ مزید متاثر ہوگا۔
قیمتوں میں اس اچانک اضافے پر اپوزیشن جماعت کانگریس نے سخت تنقید کی ہے اور حکومت پر مہنگائی بڑھانے کا الزام عائد کیا ہے۔


