غزہ میں شادی کی تقریب پر اسرائیلی حملہ، خوشیوں کا گھر ماتم کدہ بن گیا: 7 فلسطینی شہید

حیدرآباد (دکن فائلز) اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک بار پھر ظلم و بربریت کی انتہا کرتے ہوئے شادی کی تقریب کو نشانہ بنا دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 7 فلسطینی شہید اور 15 سے زائد زخمی ہو گئے۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ غزہ کے ایک پناہ گزین کیمپ میں پیش آیا، جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق لوگ خوشی کے لمحات میں شریک تھے کہ اچانک اسرائیلی فوج کی جانب سے دو میزائل داغے گئے جو براہِ راست تقریب کے مقام پر گرے۔

چند لمحوں میں شادی کا ماحول چیخ و پکار، خون اور تباہی میں بدل گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہید ہونے والوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

حملے کے بعد علاقے میں شدید افراتفری پھیل گئی۔ مقامی افراد اور ریسکیو ٹیموں نے ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالنے کی کوشش کی۔ زخمیوں اور شہدا کو الشفا اسپتال اور قریبی طبی مراکز منتقل کیا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ اتنا اچانک تھا کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔ متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا اندیشہ ہے۔

واضح رہے کہ غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیلی فوج اسپتالوں، اسکولوں، پناہ گزین کیمپوں، رہائشی عمارتوں اور عوامی اجتماعات کو بھی نشانہ بناتی رہی ہے۔ تازہ حملے نے ایک بار پھر غزہ میں انسانی بحران کی سنگینی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں