جاگو مسلمانوں۔۔: تلنگانہ ایس آئی آر میں تقریباً 1.91 کروڑ ووٹرز متاثر ہونے کا خدشہ! میپ کے بعد 89 لاکھ کے ریکارڈ میں خامیاں! ووٹ کے تحفظ کے لیے بیدار ہونے کا وقت آگیا

حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا عمل 25 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے، جسے جمہوری عمل اور ووٹرز کے حقوق کے حوالے سے انتہائی اہم مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ابتدائی جانچ میں تقریباً 89 لاکھ ووٹر ریکارڈز میں مختلف نوعیت کی خامیاں اور تضادات سامنے آئے ہیں، جبکہ ایک کروڑ سے زائد ووٹرز ایسے ہیں جن کے نام 2002 کی فہرست سے میپ نہیں ہو سکے۔ مجموعی طور پر تقریباً 1.91 کروڑ ووٹرز ایسے زمرے میں آتے ہیں جنہیں اپنی تفصیلات کی وضاحت یا دستاویزات پیش کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

ریاست میں اس وقت 3 کروڑ 38 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز موجود ہیں۔ الیکشن حکام کے مطابق ان میں سے صرف 2 کروڑ 36 لاکھ ووٹروں کی میپنگ مکمل ہوئی ہے، جبکہ تقریباً ایک کروڑ 1 لاکھ ووٹرز کی میپنگ نہیں ہو سکی۔ مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ میپ کیے گئے ووٹروں میں سے تقریباً 89 لاکھ کے ریکارڈ میں 11 مختلف اقسام کی خامیاں پائی گئی ہیں۔

سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور شہری حقوق کے کارکنان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ووٹرز نے بروقت اپنے دستاویزات مکمل نہیں کیے تو بڑی تعداد میں نام ووٹر لسٹ سے خارج ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمل کو محض ایک انتظامی کارروائی نہیں بلکہ جمہوری حقوق کے تحفظ کی جنگ قرار دیا جا رہا ہے۔

ووٹ کی اہمیت اور مسلمانوں کی ذمہ داری
موجودہ سیاسی حالات میں ووٹ صرف ایک حق نہیں بلکہ اپنی شناخت، نمائندگی اور آئینی حقوق کے تحفظ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں سمیت تمام کمزور اور پسماندہ طبقات کے لیے ووٹ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ اگر کوئی شہری ووٹر لسٹ سے خارج ہو جاتا ہے تو وہ نہ صرف انتخابی عمل سے محروم ہوتا ہے بلکہ اس کی سیاسی آواز بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔

اسی تناظر میں حیدرآباد کے رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس آئی آر کا عمل “شمولیتی” (Inclusive) ہونا چاہیے، نہ کہ “اخراجی” (Exclusive)۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ہر حقیقی شہری کا نام ووٹر لسٹ میں برقرار رہنا چاہیے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا طبقے سے ہو۔

غریب، مزدور اور مہاجر سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں
ماہرین کے مطابق دیہی علاقوں، مہاجر مزدوروں، کم تعلیم یافتہ افراد اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے کیونکہ ان کے پاس مطلوبہ دستاویزات کی کمی ہو سکتی ہے۔ حیدرآباد کے علاوہ نارائن پیٹ، مکتھل، عادل آباد اور نرمل جیسے علاقوں میں پہلے ہی بڑی تعداد میں ووٹرز کے ریکارڈ میں تضادات سامنے آ چکے ہیں۔

کیا کرنا ضروری ہے؟
* ہر ووٹر اپنے نام کی تصدیق کرے۔
* گھر آنے والے BLO (بوتھ لیول آفیسر) کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔
* فارم وقت پر بھر کر جمع کرے۔
* شناختی اور رہائشی دستاویزات تیار رکھے۔
* بزرگوں، خواتین، غریبوں اور کم تعلیم یافتہ افراد کی رہنمائی کرے۔
* کسی بھی نوٹس کو نظر انداز نہ کرے۔

جمہوریت کی طاقت ووٹ ہے
جمہوریت میں سب سے بڑی طاقت ووٹ ہے۔ اگر شہری اپنے ووٹ کے تحفظ کے لیے سنجیدہ نہیں ہوں گے تو ان کی سیاسی نمائندگی اور آئینی حقوق دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ تلنگانہ میں شروع ہونے والا ایس آئی آر صرف ووٹر لسٹ کی نظرثانی نہیں بلکہ ہر شہری کے جمہوری وجود کا امتحان ہے۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہر ووٹر، خصوصاً نوجوان، خواتین، اقلیتیں، غریب اور مہاجر طبقے کے افراد اس عمل کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے ووٹ کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں، کیونکہ ووٹ صرف ایک نشان نہیں، بلکہ آواز، اختیار اور مستقبل کا ضامن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں