حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی تاریخی مفاہمتی یادداشت (MoU) کا باضابطہ متن منظر عام پر آگیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق ’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت برائے امریکہ و اسلامی جمہوریہ ایران‘‘ کے عنوان سے جاری اس 14 نکاتی دستاویز میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی، جوہری پروگرام اور خطے میں امن سے متعلق اہم نکات شامل ہیں۔
معاہدے کے مطابق امریکہ اور ایران سمیت ان کے اتحادی فوری اور مستقل جنگ بندی کے پابند ہوں گے۔ لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کی جائیں گی اور مستقبل میں ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کیا جائے گا۔
دستاویز میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس کے ساتھ 60 دن کے اندر ایک حتمی اور جامع معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت امریکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنائے گا۔ ایران اور عمان مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے مشترکہ مشاورت کریں گے۔
ایک اہم شق کے مطابق امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت دار ایران کی تعمیر نو اور معاشی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے منصوبے پر کام کریں گے۔ اسی طرح ایران پر عائد اقوام متحدہ، آئی اے ای اے اور امریکی پابندیوں کے خاتمے کے لیے بھی ایک متفقہ شیڈول طے کیا جائے گا۔
جوہری پروگرام کے حوالے سے ایران نے ایک بار پھر یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ افزودہ یورینیم کے ذخائر کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں کم درجے پر لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی بحال کی جائے گی، تیل کی برآمدات کے لیے اجازت نامے جاری ہوں گے اور بینکنگ، انشورنس اور ٹرانسپورٹ سمیت متعلقہ شعبوں میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
دستاویز میں ایک مشترکہ نگرانی کا نظام قائم کرنے کی بھی شق شامل ہے جو معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا، جبکہ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں پر محیط کشیدگی کے خاتمے کی بنیاد بن سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔


