حیدرآباد (دکن فائلز) ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے، تاہم ہندوستانی عوام کو فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کسی فوری راحت کی امید نہیں ہے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے پیٹرولیم، قدرتی گیس و سیاحت سریش گوپی نے واضح کیا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل سستا ہونے کے باوجود ہندوستان میں ایندھن کی قیمتیں فوری طور پر کم نہیں کی جا سکتیں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوا اور خام تیل کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران 15 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق جنگی خدشات کم ہونے اور خلیجی بحری راستوں کی بحالی سے تیل کی فراہمی میں بہتری آئے گی، جس کا مثبت اثر عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوگا۔
تاہم مرکزی وزیر سریش گوپی کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں گرنے کے باوجود ہندوستان میں سستا خام تیل پہنچنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے بتایا کہ خلیجی ممالک سے درآمد ہونے والا خام تیل آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کے ذریعے بھارت پہنچتا ہے اور موجودہ صورتحال میں بحری ٹریفک غیر معمولی حد تک بڑھنے کا امکان ہے، جس کے باعث معمولات بحال ہونے میں کچھ وقت درکار ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں مغربی ایشیا کی جنگ کے باعث تیل کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ حکومت نے عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے بڑی حد تک یہ نقصان خود برداشت کیا، جس کے نتیجے میں مرکز کو تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے کا خسارہ برداشت کرنا پڑا۔
سریش گوپی نے مزید کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا حقیقی اثر تقریباً 3.94 روپے فی لیٹر تک محدود رہا ہے، لیکن صرف عالمی قیمتوں میں کمی کی بنیاد پر اسے فوری طور پر واپس نہیں لیا جا سکتا۔ ان کے مطابق قیمتوں کے تعین میں درآمدی لاگت، ٹرانسپورٹ، ذخیرہ اندوزی، ٹیکس اور دیگر کئی عوامل شامل ہوتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایران-امریکہ معاہدے کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت آبنائے ہرمز کھولنے، تیل کی برآمدات بحال کرنے اور ایران پر بعض اقتصادی پابندیوں میں نرمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔ اسی پیش رفت کے بعد عالمی خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خلیج میں امن کی صورتحال برقرار رہی اور تیل کی عالمی قیمتیں موجودہ سطح پر رہیں تو آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں میں ہندوستانی صارفین کو بھی ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ مل سکتا ہے۔ تاہم فی الحال حکومت اور تیل کمپنیاں حالات کا جائزہ لے رہی ہیں اور فوری ریلیف کے امکانات محدود دکھائی دے رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر فوری طور پر مقامی قیمتوں پر نظر آتا ہے، لہٰذا اب جبکہ خام تیل سستا ہو رہا ہے، عوام کو بھی اس کا فائدہ جلد از جلد ملنا چاہیے۔ تاہم حکومت کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں کسی بھی تبدیلی کے لیے سپلائی چین اور درآمدی عمل کے مکمل طور پر معمول پر آنے کا انتظار کرنا ہوگا۔


