حیدرآباد (دکن فائلز) فلسطینی سیاسی کارکن اور سابق اسیرہ لما خاطر نے اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین کے ساتھ ہونے والے مبینہ غیر انسانی سلوک، تشدد اور تذلیل آمیز رویوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے عالمی انسانی حقوق تنظیموں سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
پچاس سالہ لما خاطر کو رواں سال مارچ میں الخلیل میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے بتایا کہ گرفتاری کے بعد انہیں بدنام زمانہ **المسکوبیہ جیل** منتقل کیا گیا جہاں ان کی بار بار برہنہ تلاشی لی گئی، جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کا حجاب زبردستی اتار لیا گیا۔
ان کے مطابق جیل حکام نے انہیں انتہائی سرد اور تاریک کوٹھری میں رکھا، ان کے بستر پر پانی پھینکا گیا، گالیاں دی گئیں اور ذاتی اشیاء ضبط کر لی گئیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خواتین قیدیوں کو زنجیروں میں جکڑ کر زمین پر گھسیٹا جاتا ہے اور گھنٹوں تک گھٹنوں کے بل بٹھایا جاتا ہے۔
لما خاطر کے مطابق رملہ اور دامون جیلوں میں حالات مزید سنگین ہیں، جہاں خواتین قیدیوں کو مسلسل نگرانی، نفسیاتی دباؤ اور تذلیل آمیز سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض اوقات خواتین کو غسل خانے تک میں مکمل رازداری حاصل نہیں ہوتی اور انہیں بنیادی انسانی ضروریات سے بھی محروم رکھا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جیلوں میں شدید بھیڑ ہے، قیدی خواتین کو زمین پر سونا پڑتا ہے اور حاملہ خواتین کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ خوراک کی قلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے، جہاں قیدیوں کو انتہائی محدود مقدار میں کھانا دیا جاتا ہے جس کے باعث کئی خواتین بھوک کی حالت میں رات گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
لما خاطر کا کہنا ہے کہ جیل حکام بعض اوقات شکاری کتوں، صوتی بموں اور دیگر خوفناک طریقوں سے خواتین قیدیوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ تمام اقدامات فلسطینی خواتین کے حوصلے پست کرنے اور انہیں ذہنی طور پر توڑنے کی کوشش کا حصہ ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین اور جنیوا کنونشنز کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ فلسطینی تنظیموں نے اقوام متحدہ، عالمی ریڈ کراس اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی خواتین کی حالت کا فوری نوٹس لیا جائے اور آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
مبصرین کے مطابق فلسطینی قیدیوں کا مسئلہ طویل عرصے سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازع کا حساس ترین پہلو رہا ہے، تاہم خواتین قیدیوں کے حوالے سے سامنے آنے والی یہ تازہ تفصیلات عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔


