ایران۔امریکہ امن معاہدے کے بعد اب تک کیا ہوا؟ کس نے کیا کہا اور آگے کیا ہونے والا ہے؟ (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور ایران کے درمیان “اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” (Islamabad Memorandum of Understanding) پر دستخط کے بعد مشرق وسطیٰ کی سیاسی، عسکری اور معاشی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ معاہدے کے نفاذ کے پہلے ہی دن متعدد اہم پیش رفتیں سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکہ، ایران، خلیجی ممالک اور عالمی طاقتوں کی جانب سے مسلسل بیانات بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کھل گئی، تیل کی ترسیل بحال
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد صرف ایک دن میں ایک کروڑ 20 لاکھ بیرل سے زائد تیل آبنائے ہرمز سے گزر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے معاہدے کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی بحری جہاز کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی سمندری نقل و حمل میں کوئی رکاوٹ پیدا کی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بھی تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے تمام بحری جہازوں پر عائد امریکی ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد خلیج عمان اور آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں دوبارہ معمول پر آنا شروع ہو گئی ہیں۔

جے ڈی وینس: “یہ امریکہ کی بڑی کامیابی”
وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ بعض میڈیا ادارے معاہدے کی غلط تشریح کر رہے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاہدہ امریکہ اور امریکی عوام کی بڑی کامیابی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ایٹمی ہتھیار بنانے کی صلاحیت مؤثر انداز میں ختم کر دی گئی ہے، اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے اور ایران اب معاشی بحالی کے لیے امن کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلائی جا رہی ہیں۔ امریکہ ایران کو براہ راست کوئی رقم نہیں دے گا بلکہ اگر ایران مثبت رویہ اختیار کرتا ہے تو علاقائی سرمایہ کاری اور پابندیوں میں نرمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کے دعوے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ دنیا پہلے سے زیادہ محفوظ ہو چکی ہے اور امریکہ معاشی ترقی کی نئی راہ پر گامزن ہے۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تیل کی ترسیل بحال ہونے سے عالمی منڈیوں میں استحکام پیدا ہو رہا ہے، امریکی اسٹاک مارکیٹیں اوپر جا رہی ہیں، روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور مہنگائی میں کمی آرہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا۔

ایران کا مؤقف: “ہم نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا”
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی رائے معاہدے کے حوالے سے مختلف تھی، تاہم ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور قومی سلامتی کے ذمہ داران نے قوم کے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد انہوں نے منظوری دی۔

انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہوگا کہ ایران امریکی مؤقف قبول کر لے گا۔ اگر واشنگٹن نے اضافی مطالبات یا نئی شرائط مسلط کرنے کی کوشش کی تو تہران انہیں مسترد کر دے گا۔

سوئٹزرلینڈ میں نئے مذاکرات
معاہدے کے بعد اگلا مرحلہ سوئٹزرلینڈ کے شہر برجنسٹاک میں شروع ہونے والے تکنیکی مذاکرات ہیں۔ امریکی اور ایرانی نمائندے آج ملاقات کریں گے جبکہ پاکستان اور قطر کے نمائندے بھی موجود رہیں گے۔

اگرچہ باضابطہ دستخطی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے کیونکہ دونوں صدور پہلے ہی الیکٹرانک دستخط کر چکے ہیں، تاہم 60 روزہ مذاکراتی مرحلہ اب باضابطہ طور پر شروع ہو چکا ہے۔

خلیجی ممالک میں سفارتی سرگرمیاں تیز
معاہدے کے بعد قطر، سعودی عرب، مصر، کویت اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

قطری وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ کرکے امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ پورے خطے میں امن و استحکام کی نئی راہ کھولے گا۔

اسرائیل پر بھی دباؤ
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسرائیل کو بھی خبردار کیا کہ اسے امن عمل کا احترام کرنا ہوگا۔ انہوں نے بیروت میں حالیہ اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں پر حملے ناقابل قبول ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ایسا فریم ورک چاہتا ہے جس سے حزب اللہ کی عسکری اور مالی طاقت محدود ہو اور اسرائیل کی سلامتی بھی یقینی بنائی جا سکے۔

آگے کیا ہوگا؟
معاہدے کے مطابق آئندہ 60 روز انتہائی اہم ہوں گے۔ اسی دوران:
* ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔
* پابندیوں میں نرمی کے طریقہ کار پر بات ہوگی۔
* آبنائے ہرمز کے انتظام اور بحری سلامتی کا نیا نظام تشکیل دیا جائے گا۔
* ایران کے منجمد اثاثوں اور تیل کی برآمدات کے معاملات طے ہوں گے۔
* حتمی امن معاہدے کے خدوخال سامنے آئیں گے۔

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت نے فوری جنگی خطرات کو کم کر دیا ہے، تاہم اصل امتحان آئندہ دو ماہ کے مذاکرات ہوں گے جن پر نہ صرف ایران اور امریکہ بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا انحصار ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں