وندے ماترم سے متعلق مرکزی حکومت کی نئی ہدایات: قومی ترانے کے دوران کیا کرنا ہوگا؟ مسلمانوں کے خدشات (تفصیلی خبر)

حیدرآباد (دکن فائلز) مرکزی وزارتِ داخلہ نے قومی ترانہ “جن گن من”، قومی نغمہ “وندے ماترم” اور مختلف ریاستوں کے سرکاری ریاستی گیتوں کی ادائیگی سے متعلق تازہ رہنما ہدایات جاری کرتے ہوئے تمام ریاستی حکومتوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں اور مرکزی وزارتوں کو ان پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان ہدایات کا مقصد سرکاری تقریبات میں قومی علامات کے احترام کو یقینی بنانا اور پورے ملک میں یکساں طریقۂ کار اختیار کرنا ہے۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے 9 جولائی کو جاری کیے گئے میمورنڈم میں پہلے سے موجود قواعد کی دوبارہ توثیق کرتے ہوئے بعض اہم نکات کو مزید واضح کیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق اگر کسی سرکاری تقریب میں قومی نغمہ “وندے ماترم”، قومی ترانہ “جن گن من” اور متعلقہ ریاست کا سرکاری گیت تینوں پیش کیے جائیں تو ان کی ترتیب درج ذیل ہوگی:
* سب سے پہلے “وندے ماترم” مکمل طور پر پیش کیا جائے۔
* اس کے بعد “جن گن من” مکمل طور پر گایا یا بجایا جائے۔
* آخر میں متعلقہ ریاست کا ریاستی گیت پیش کیا جائے۔

حکومت کے مطابق یہ ترتیب قومی علامات کے احترام اور سرکاری تقریبات میں یکسانیت برقرار رکھنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔

قومی ترانے کے دوران کیا کرنا ہوگا؟
وزارت داخلہ نے واضح کیا ہے کہ جب بھی قومی ترانہ “جن گن من” گایا یا بجایا جائے تو تمام حاضرین کا احتراماً کھڑے ہونا ضروری ہوگا۔ البتہ اگر قومی ترانہ کسی نیوز ریل، ڈاکیومنٹری یا فلمی مواد کے دوران چلایا جائے اور اس سے پروگرام میں خلل پڑنے کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں کھڑا ہونا لازمی نہیں ہوگا۔ حکومت نے واضح کیا کہ یہ رعایت پہلے سے موجود ہے، جسے دوبارہ یاد دلایا گیا ہے۔

غیر ملکی مہمانوں کے لیے بھی الگ پروٹوکول
وزارتِ داخلہ نے بین الاقوامی تقریبات کے حوالے سے بھی واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ اگر کسی سرکاری تقریب میں کسی غیر ملکی سربراہِ مملکت یا معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا جا رہا ہو تو:
* پہلے متعلقہ ملک کا قومی ترانہ بجایا جائے گا۔
* اس کے بعد بھارت کا قومی ترانہ پیش کیا جائے گا۔
یہی اصول غیر ملکی سفارت خانوں کی ثقافتی تقریبات پر بھی لاگو ہوگا۔

حکومت نے اپنے حکم نامے میں ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ “وندے ماترم” کو قومی نغمہ کا درجہ حاصل ہے، جسے بنکم چندر چٹرجی نے تحریر کیا تھا۔ “جن گن من” بھارت کا قومی ترانہ ہے، جسے رابندر ناتھ ٹیگور نے تحریر کیا تھا۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ دونوں کی سرکاری عبارت، درست تلفظ اور مستند متن اس کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

قومی ترانے اور قومی نغمے کے معاملے پر سپریم کورٹ مختلف اوقات میں اہم فیصلے دے چکی ہے۔ 1986 کے معروف بِجوئے ایمینوئل (Bijoe Emmanuel) مقدمے میں سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ اگر کوئی شخص اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پر قومی ترانہ نہیں گاتا لیکن احتراماً خاموش کھڑا رہتا ہے تو اسے اس بنیاد پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے کہا تھا کہ آئین ہر شہری کو اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے اور ضمیر کی آزادی کا حق دیتا ہے۔

اسی طرح 2016 میں سینما گھروں میں قومی ترانہ لازمی بجانے سے متعلق عبوری حکم دیا گیا تھا، تاہم بعد میں عدالت نے اس میں نرمی کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں حکومت مناسب پالیسی وضع کرے۔

اگرچہ قومی نغمہ “وندے ماترم” کو آزادی کی تحریک میں تاریخی اہمیت حاصل رہی ہے، تاہم اس کے بعض اشعار پر کئی مسلم مذہبی تنظیموں اور علماء نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مذہبی بنیادوں پر اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔

مسلم تنظیموں کا مؤقف رہا ہے کہ گیت کے بعض حصوں میں وطن کو دیوی کی شکل میں پیش کیا گیا ہے، جسے وہ اسلامی عقیدۂ توحید سے متصادم قرار دیتے ہیں۔ متعدد علماء کا کہنا ہے کہ وطن سے محبت اسلامی تعلیمات کے خلاف نہیں، لیکن عبادت یا تقدیس کا وہ انداز جس میں کسی غیر اللہ کی تعظیم عبادت کے مشابہ ہو، اسلام میں جائز نہیں۔

اسی بنیاد پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جمعیت علماء ہند، جماعت اسلامی ہند اور دیگر دینی ادارے مختلف مواقع پر “وندے ماترم” کی لازمی ادائیگی کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔

مسلم مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ آئین، قومی پرچم اور قومی ترانے کا احترام کرتے ہیں۔ تاہم “وندے ماترم” کی لازمی ادائیگی مذہبی آزادی کے بنیادی حق سے متصادم ہو سکتی ہے۔ ان کا مطالبہ رہا ہے کہ کسی بھی شہری کو اس نغمے کی ادائیگی پر مجبور نہ کیا جائے اور آئین کے تحت مذہبی آزادی کا مکمل احترام کیا جائے۔

ماضی میں کئی مسلم تنظیموں نے ایسے احکامات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ایسے اقدامات اختیار کیے جائیں جو تمام مذاہب کے ماننے والوں کے جذبات اور آئینی حقوق کا یکساں احترام کریں۔

مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ ان تازہ ہدایات کا مقصد کسی طبقے کے مذہبی جذبات کو متاثر کرنا نہیں بلکہ سرکاری تقریبات میں قومی علامات کے احترام، قومی اتحاد، آئینی وقار اور انتظامی یکسانیت کو یقینی بنانا ہے۔

وزارتِ داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان رہنما اصولوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ قومی تقریبات میں نظم و ضبط اور یکساں طریقۂ کار برقرار رکھا جا سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں