اسرائیل مسجد اقصیٰ کے تاریخی اسٹیٹس کو کو تبدیل کرنے کی سازش رچ رہا ہے: اردن نے عرب و اسلامی ممالک کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

حیدرآباد (دکن فائلز) : اردن نے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو میں مبینہ تبدیلی کی اسرائیلی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اردن کا کہنا ہے کہ اگر ان اقدامات کو نہ روکا گیا تو پورا خطہ سنگین مذہبی کشیدگی اور عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

مسجد اقصیٰ دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس اور ایمانی مقام رکھتی ہے۔ یہ اسلام کا قبلۂ اول اور مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جس سے ہر مسلمان کی عقیدت اور محبت وابستہ ہے۔ ایسے میں مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور مذہبی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش مسلم دنیا میں گہری تشویش کا باعث بن رہی ہے۔

اردنی حکام کے مطابق حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی مذہبی انتہا پسند گروہوں اور بعض حکومتی شخصیات کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اردن کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے اس تاریخی انتظام کو نقصان پہنچ رہا ہے جس کے تحت مسجد اقصیٰ اور حرم شریف کی نگرانی ہاشمی مملکتِ اردن کے سپرد ہے، جبکہ احاطے میں عبادت کا حق مسلمانوں کے لیے مخصوص ہے۔

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر کی قیادت میں ہزاروں اسرائیلی افراد کے احاطۂ اقصیٰ میں داخل ہونے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔ اردن نے ان سرگرمیوں کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف فلسطین اور اردن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے عالمِ اسلام میں شدید ردعمل پیدا ہو سکتا ہے۔

اردن کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی اسٹیٹس کو میں کسی بھی قسم کی تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بااثر ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مقدس مقامات کی موجودہ حیثیت کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں اور خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان خدشات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حالیہ عرصے میں مسجد اقصیٰ کے احاطے میں پیش آنے والے واقعات اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر اس حساس معاملے کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں