حیدرآباد (دکن فائلز) حیدرآباد یوتھ کریج (HYC) کے بانی اور بی آر ایس سے وابستہ رہنما سلمان خان کی جانب سے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ جمعہ 14 اگست 2026 کو پیش آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ HYC کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیوز میں سلمان خان کو اسپتال میں زیرِ علاج دیکھا جاسکتا ہے۔ تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس اور حکومت کی مبینہ ہراسانی سے پریشان ہوکر سلمان خان نے یہ انتہائی قدم اٹھانے کی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے ہراسانی کے الزام کی تردید کی ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سلمان خان کے خلاف مہدی پٹنم پولیس اسٹیشن میں ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ان پر ملعون راجہ سنگھ کی تصویر والے ایک مبینہ قابلِ اعتراض پوسٹر سے متعلق کارروائی کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 14 اگست کو مہدی پٹنم پولیس نے سلمان خان کے خلاف ایک شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کیا۔ شکایت منگل ہاٹ کے رہائشی وی لکشمن نے درج کرائی تھی۔ شکایت کنندہ کے مطابق انہوں نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز دیکھی تھیں جن میں سلمان خان اور دو دیگر افراد ملعون راجہ سنگھ کی تصویر والا ایک پوسٹر لگاتے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ پوسٹر پر مذہبی نوعیت کا قابلِ اعتراض اور اشتعال انگیز مواد درج تھا۔
پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں مختلف مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے، مذہبی جذبات مجروح کرنے، امن میں خلل پیدا کرنے کے ارادے سے توہین اور عوامی خلل سے متعلق دفعات شامل ہیں۔
مہدی پٹنم پولیس کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر ایس ملیش نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس شکایت میں لگائے گئے الزامات کی تصدیق کررہی ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے چند گھنٹوں بعد سلمان خان کی مبینہ خودکشی کی کوشش کی خبر سامنے آئی۔ HYC کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں سلمان خان کو اسپتال میں طبی علاج حاصل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
HYC نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ سلمان خان نے ”پولیس اور حکومت کی ہراسانی“ کی وجہ سے یہ انتہائی قدم اٹھانے کی کوشش کی۔ تاہم دستیاب اطلاعات میں سلمان خان کی جانب سے اس الزام کی تفصیلی تصدیق یا واقعے کے حالات پر ان کا براہِ راست بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب مہدی پٹنم پولیس نے سلمان خان کو ہراساں کیے جانے کے الزام سے انکار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق سلمان خان کے خلاف مقدمہ ضرور درج کیا گیا ہے، لیکن وہ پولیس اسٹیشن آئے ہی نہیں تھے۔ پولیس نے سوال اٹھایا کہ جب وہ پولیس اسٹیشن آئے ہی نہیں تو پھر پولیس کی جانب سے ہراسانی کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جارہا ہے۔
اس طرح اس معاملے میں فی الحال HYC کی جانب سے پولیس ہراسانی کا الزام اور پولیس کی جانب سے اس الزام کی تردید دونوں سامنے آچکے ہیں۔ واقعے کی اصل وجوہات اور حالات سے متعلق مزید معلومات پولیس کی تحقیقات اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہوسکیں گے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سلمان خان اور ملعون راجہ سنگھ سے متعلق معاملہ پولیس تک پہنچا ہو۔ جون 2026 میں بھی سلمان خان نے ملعون راجہ سنگھ کے مبینہ قابلِ اعتراض بیانات کے خلاف مہدی پٹنم پولیس میں شکایت درج کرائی تھی۔ اس شکایت کی بنیاد پر پولیس نے ملعون راجہ سنگھ کے خلاف BNS کی دفعہ 196 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ سلمان خان نے الزام لگایا تھا کہ ملعون راجہ سنگھ کے مبینہ بیانات سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوسکتی ہے۔
بعد میں ملعون راجہ سنگھ نے اپنے بیانات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے تبصرے ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کے بارے میں نہیں بلکہ پاکستان اور دیگر ممالک سے انہیں مبینہ طور پر ملنے والی دھمکیوں کے حوالے سے تھے۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے مقدمہ درج کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا تھا۔
حیدرآباد یوتھ کریج کے بانی سلمان خان گزشتہ برس جوبلی ہلز اسمبلی ضمنی انتخاب کے دوران بھی خبروں میں رہے تھے۔ ان کا آزاد امیدوار کی حیثیت سے داخل کردہ نامزدگی پرچہ جانچ کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے باعث مسترد کردیا گیا تھا۔ بعد میں وہ بی آر ایس میں شامل ہوگئے تھے۔
ان کا نام اس سے قبل بھی مختلف قانونی تنازعات میں سامنے آچکا ہے، تاہم ان تمام معاملات میں الزامات اور عدالتی یا پولیس کارروائیوں کو ان کے خلاف ثابت شدہ جرم تصور نہیں کیا جاسکتا۔ 2023 میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے ایک مقدمے میں بھی سلمان خان کی حراست سے متعلق معاملہ عدالت کے سامنے آیا تھا۔
سلمان خان کی اسپتال میں زیرِ علاج تصاویر اور ویڈیوز سامنے آنے کے بعد یہ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گیا۔ مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اسے پولیس ہراسانی سے جوڑتے ہوئے دعوے کیے، جبکہ پولیس نے اس الزام کو مسترد کردیا ہے۔
اس لیے فی الحال ذمہ دارانہ طور پر یہ کہنا درست ہوگا کہ سلمان خان کی خودکشی کی مبینہ کوشش کی خبر سامنے آئی ہے، HYC نے اسے پولیس و حکومتی ہراسانی سے جوڑا ہے، جبکہ پولیس نے ہراسانی کی تردید کی ہے۔ واقعے کی مکمل حقیقت اور خودکشی کی کوشش کے مبینہ محرکات کے بارے میں حتمی نتیجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آسکے گا۔


