الیکشن کمیشن کے خلاف ‘انڈیا’ اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج: راہول گاندھی نے بیریکیٹ پر چڑھ کر ترنگا لہرایا اور کہا ’گیانیش کا کھیل ختم‘

حیدرآباد (دکن فائلز) انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ووٹوں کے اخراج کے خلاف ‘انڈیا اتحاد کے رہنماؤں اور ارکانِ پارلیمنٹ نے منگل کے روز الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) کے ہیڈکوارٹر ‘نروارچن سدن’ کی جانب مارچ کیا۔ احتجاج کے دوران دہلی پولیس نے لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر رہنماؤں کو کچھ دیر کے لیے حراست میں لینے کے بعد رہا کر دیا۔ اس دوران راہل گاندھی پولیس بیریکیڈ پر چڑھ گئے اور قومی پرچم لہرایا۔

اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے ‘مکر دوار’ سے الیکشن کمیشن ہیڈکوارٹر کی طرف اپنے مارچ کا آغاز کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے آکاشوانی بھون کے قریب بھاری بیریکیڈنگ کے ذریعہ مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔ راستہ روکے جانے کے بعد راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ نے نیتی آیوگ کے قریب دھرنا دے دیا۔ مارچ کے دوران سماج وادی پارٹی کے ارکانِ پارلیمنٹ بیریکیڈز پھلانگ کر آگے بڑھتے دیکھے گئے۔

مظاہرے کے پیش نظر نئی دہلی کے سنٹرل زون، جنتر منتر اور الیکشن کمیشن کے دفتر کے اطراف دہلی پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔ علاقے میں ‘بھارتیہ نیائے سنہتا’ (BNS) کی دفعہ 163 نافذ کر دی گئی، جس کے تحت اجتماع اور مخصوص سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں۔

اپوزیشن کی جانب سے یہ احتجاج ‘اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں، کروڑوں ووٹرز کے نام خارج کیے جانے اور چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبات کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کے اندرونی اختلافات سے متعلق سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس کے بعد انتخابی عمل میں شفافیت کے فقدان پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اسی دوران نجیب جنگ (سابق لیفٹیننٹ گورنر، دہلی) نے چیف الیکشن کمشنر پر “آئین کو کمزور کرنے” کا الزام عائد کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ملک بھر سے خارج کیے گئے 13 کروڑ سے زائد ووٹرز (اور دہلی کے 47 لاکھ ووٹرز) واقعی غیر قانونی تھے؟ انہوں نے کہا کہ یہ سب پچھلے انتخابات میں ووٹ ڈال چکے تھے اور یہ عوام کے بنیادی حقوق کی لڑائی ہے۔

وہیں ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ (CJP) کے شریک کنوینر سورو داس نے بھی احتجاج کی حمایت کی اور 10 اکتوبر کو نوجوانوں اور ‘Gen Z’ کی جانب سے وسیع تر عوامی تحریک کی کال کا حوالہ دیا۔

بی جے پی کے قومی ترجمان سمبت پاترا نے اپوزیشن کے احتجاج کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن “راہل گاندھی کو لانچ اور ری لانچ کرنے کے لیے” آئینی اداروں کو کمزور کر کے انارکی پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے متفقہ تھے اور سپریم کورٹ نے فارم 6 کو کبھی غیر قانونی قرار نہیں دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں