حیدرآباد (دکن فائلز) چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے مبینہ جانبدارانہ طرزِ عمل اور ووٹر لسٹوں کی نظرثانی میں سنگین ہیرا پھیری کے الزامات کے خلاف تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی (ٹی پی سی سی) اور ‘انڈیا’ بلاک کے زیرِ اہتمام دارالحکومت حیدرآباد میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ ‘چلو لوک بھون’ (راج بھون) مارچ کے دوران اس وقت شدید سیاسی کشیدگی پیدا ہو گئی جب پولیس نے راج بھون کی طرف پیش قدمی کو روکتے ہوئے تلنگانہ کے متعدد وزراء، ریاستی کانگریس صدر اور سابق رکنِ پارلیمنٹ محمد اظہر الدین اور اے آئی وائی ایف تلنگانہ کے ریاستی صدر ڈاکٹر ولی اللہ قادری سمیت درجنوں سینئر قائدین کو حراست میں لے لیا۔
جمعرات، 8 اکتوبر کو تلنگانہ کانگریس کی قیادت میں ‘انڈیا’ اتحاد کے شانہ بشانہ سی پی آئی، آل انڈیا یوتھ فیڈریشن (اے آئی وائی ایف) اور دیگر عوامی تنظیموں کے کارکنان بڑی تعداد میں نیکلیس روڈ پر واقع اندرا گاندھی اور امبیڈکر کے مجسموں کے قریب جمع ہوئے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کے مطالبات درج تھے۔
مظاہرین نے پرامن طریقے سے سوماجی گوڑہ میں واقع لوک بھون (راج بھون) کی طرف مارچ شروع کیا، تاہم پولیس نے راج بھون جانے والے تمام راستوں پر پہلے سے ہی بھاری بیریکیڈنگ کر رکھی تھی۔ جب مظاہرین اور کانگریس قائدین نے بیریکیڈز عبور کر کے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس اور کارکنوں کے درمیان شدید دھکم پیل اور ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ پولیس نے طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظاہرین کا گھیراؤ کیا اور صفِ اول کے رہنماؤں کو زبردستی پولیس گاڑیوں میں منتقل کر دیا۔ قائدین نے حراست کے دوران پولیس اسٹیشنوں کے اندر بھی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی جاری رکھی۔
حراست میں لیے جانے والے رہنماؤں میں مہیش کمار گوڑ (صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی)، پونم پربھاکر (ریاستی وزیر)، سریدھر بابو (ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت) ، پونگولیتی سرینواس ریڈی (ریاستی وزیر ریونیو)، ادلوری لکشمن کمار (ریاستی وزیر)، سری ہری (ریاستی وزیر)، محمد اظہر الدین (سابق بھارتی کرکٹ کپتان و سینئر کانگریس لیڈر) شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بڑی تعداد میں اراکینِ اسمبلی، کونسلرز اور کارکنان بھی زیرِ حراست ہیں۔ حراست میں لئے گئے رہنماؤں کے علاوہ متعدد اراکینِ اسمبلی (ایم ایل ایز)، کونسلرز، پارٹی عہدیداران اور بڑی تعداد میں کارکنان کو بھی مختلف پولیس اسٹیشنوں میں منتقل کیا گیا۔
کانگریس قیادت اور اتحادی جماعتوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار مرکزی حکومت کی بی ٹیم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ تلنگانہ کے وزیر پونم پربھاکر اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے اس موقع پر کہا کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے قاعدگیاں کی گئی ہیں تاکہ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوا جا سکے۔
قائدین کا کہنا تھا کہ بی جے پی، نریندر مودی، امت شاہ اور گیانیش کمار مل کر ملک کے جمہوری نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور یہ احتجاج عوام کے ووٹ کے آئینی حق کی حفاظت کی بقاء کی جنگ ہے۔ انہوں نے واضح مطالبہ کیا کہ چیف الیکشن کمشنر فوری طور پر اپنے منصب سے مستعفی ہوں تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ ریلی میں شریک اے آئی وائی ایف کے قومی سکریٹری ڈاکٹر سید ولی اللہ قادری اور دیگر رہنماؤں نے بھی الیکشن کمیشن کے موجودہ طریقہ کار پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفافیت اور احتساب کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کے دوران کانگریس قائدین نے نئی دہلی میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن اراکینِ پارلیمنٹ کے ساتھ پیش آنے والے حالیہ پولیس واقعات اور بدسلوکی کی بھی شدید مذمت کی۔ سابق کپتان اور سینئر کانگریس رہنما محمد اظہر الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ “جمہوریت میں پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی اور آئینی حق ہے۔ دہلی میں ہمارے قائدین راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا اور جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ ہم مرکزی حکومت کے اس آمرانہ رویے اور الیکشن کمیشن کی کھلی جانبداری کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے، اور آئین و جمہوریت کے تحفظ کے لیے ہماری پرامن جدوجہد سڑکوں پر جاری رہے گی۔”


