الحمدللہ: چھتیس گڑھ سے 4 بنگالی مسلمان مزدور رہا! شہریوں کو ’بنگلہ دیشی‘ قرار دینے کی مذموم روش پر کلکتہ ہائی کورٹ کے سخت ریمارکس

حیدرآباد (دکن فائلز) چھتیس گڑھ کے شہر بلاسپور میں مبینہ ”غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکینِ وطن“ کے شبہے میں ایک ماہ سے زائد عرصے تک حراست میں رکھے گئے مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد سے تعلق رکھنے والے آخری چاروں مسلمان مزدوروں کو بالآخر رائے پور کے ہولڈنگ سینٹر سے رہا کر دیا گیا۔ مزدوروں کی رہائی بدھ کی رات 9 بجے اس وقت عمل میں آئی جب کلکتہ ہائی کورٹ نے شہریت کے متوازی عمل اور پولیس کے من مانے رویے پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے متعلقہ حکام کی شدید سرزنش کی۔

بلاسپور پولیس نے 4 ستمبر کو سرگیتی تھانہ حدود کے علاقے چنچیا پارا-گنیش نگر سے گھر گھر گھوم کر سامان فروخت کرنے والے 23 مزدوروں کو حراست میں لیا تھا۔ اگرچہ 18 ستمبر کو ووٹر لسٹ، مستقل رہائشی اسناد اور خاندانی ریکارڈز کی تصدیق کے بعد 19 مزدوروں کو رہا کر دیا گیا تھا، لیکن ان چار مزدوروں کو اس بہانے محبوس رکھا گیا کہ مغربی بنگال کی انتخابی فہرست سے ان کے نام نکالے جانے کا تنازع زیر سماعت تھا۔ رہائی کے بعد پولیس نے باقاعدہ آرڈر میں درج کیا کہ یہ چاروں افراد ”ہندوستانی ہیں، بنگلہ دیشی نہیں“۔ مزدوروں نے 2002 کی انتخابی فہرست کے ریکارڈ پیش کیے اور انہوں نے 2026 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بھی ووٹ ڈالا تھا۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس کرشنا راؤ نے فارنرز رجسٹریشن آفیسر (ایف آر او) اور ایس پی بلاسپور کے اس متوازی دائرہ کار پر سخت سوال اٹھایا جس میں اپیل زیرِ سماعت ہونے کے باوجود شہریوں کی شہریت طے کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ عدالت نے استفسار کیاکہ ”جب اپیلٹ ٹریبونل میں معاملہ زیر التوا ہے، تو آپ کی اتھارٹی یہ کیسے کہہ سکتی ہے کہ وہ ہندوستانی نہیں ہیں؟ پھر اپیلٹ اتھارٹی کیا کرے گی؟ آپ شہریوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔“

یہ واقعہ اس خطرناک اور شرمناک رجحان کو بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت ملک کی مختلف ریاستوں میں بنگالی بولنے والے محنت کش مسلمانوں کو محض ان کی زبان، غربت اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور فوراً ”بنگلہ دیشی“ کا داغ لگا دیا جاتا ہے۔ کسی آزاد اور جمہوری ملک کے قانونی شہریوں کو ان کے بنیادی حقوق اور حقِ روزگار سے محروم کر کے مشتبہ بنانا آئین کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی اور کھلی زیادتی ہے۔ انتظامیہ کا یہ رویہ نہ صرف ریاستی تعصب کا عکاس ہے بلکہ اپنے ہی شہریوں کے وقار کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔

مغربی بنگال سے رکن پارلیمان سمیر ال اسلام نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو عدالتی مداخلت کا سہارا اس لیے لینا پڑا کیونکہ مرشد آباد کی مقامی انتظامیہ نے بروقت تصدیقی رپورٹ فراہم کرنے کی اپنی بنیادی ذمہ داری ادا نہیں کی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اپنے ہی شہریوں کے دستاویزی حقوق کا تحفظ اور بین الریاستی تعاون کسی افسر کا احسان نہیں بلکہ قانونی اور انتظامی فریضہ ہے، جسے بغیر کسی سیاسی تفریق کے غیر جانبدارانہ طور پر نبھایا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں