حیدرآباد (دکن فائلز) ہندوستانی دارالحکومت نئی دہلی میں الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف طلبہ و نوجوانوں کے احتجاج کے پیشِ نظر حکومت اور پولیس نے غیر معمولی سیکیورٹی لاک ڈاؤن نافذ کر دیا ہے۔ کاک روچ جنتا پارٹی (سی جے پی)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (اے آئی ایس اے) اور دیگر تنظیموں کے جنتر منتر پر مجوزہ دھرنے سے قبل ہی دہلی کو عملی طور پر ایک فوجی قلعے میں تبدیل کر دیا گیا۔
دہلی پولیس اور نیم فوجی دستوں نے کارروائی کرتے ہوئے احتجاجی قائدین سمیت 500 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر ٹرانسپورٹ بندش نے لاکھوں شہریوں اور مسافروں کو مصیبت میں ڈال دیا ہے۔ دہلی پولیس نے احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے صبح سویرے سے ہی بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے، کارکن سوربھ داس اور آشوتوش رانکا جیسے ہی ممبئی سے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ (IGI) دہلی پہنچے، دہلی پولیس کی ٹیمیں طیارے کے اندر داخل ہو گئیں اور انہیں رن وے پر ہی حراست میں لے لیا۔ ابھیجیت دیپکے نے اس کارروائی کو انسٹاگرام پر لائیو نشر کیا، جس میں وہ پولیس اہلکاروں سے یہ کہتے سنے گئے کہ وہ گرفتاری سے خوفزدہ نہیں ہیں۔
معروف یوٹیوبر اور مبصر دھرو راٹھی کو گروگرام میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا گیا، جبکہ سی جے پی کی قانونی ٹیم کی سربراہ رتنا سنگھ اور کاویا کرناٹک سمیت متعدد سرکردہ رہنماؤں کو حراست میں لے کر دہلی کے مختلف تھانوں اور چھترسال اسٹیڈیم منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ منتظمین نے احتجاج کی اجازت کے لیے مطلوبہ 10 دن کے بجائے صرف تین دن قبل درخواست دی تھی، اس لیے امن و امان کے پیشِ نظر کارروائی ناگزیر تھی۔
دہلی کے کونے کونے میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ 25 ہزار سے زائد پولیس اہلکار اور سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز (CAPF) کی 120 سے زائد کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ جنتر منتر اور پارلیمنٹ کی جانب جانے والے تمام راستوں پر کثیر سطحی کنکریٹ بیریکیڈز لگائے گئے ہیں اور گاڑیوں کو روکنے کے لیے سڑکوں پر ٹائر پنکچر کرنے والی نوکیلی لوہے کی پٹیاں (Spike Strips) بچھائی گئی ہیں۔
بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا کے تحت چار یا اس سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہے۔ جنتر منتر اور ملحقہ علاقوں میں امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے موبائل انٹرنیٹ سروسز بھی بند کر دی گئیں۔ سیکیورٹی کے نام پر کیے گئے اقدامات نے دارالحکومت کے مواصلاتی نظام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن (DMRC) نے راجیو چوک، سنٹرل سیکریٹریٹ، منڈی ہاؤس، پٹیل چوک، کشمیری گیٹ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ سمیت 45 میٹرو اسٹیشنز پر آمد و رفت مکمل طور پر بند کر دی ہے۔ اس کے علاوہ نمو بھارت کے دو اسٹیشنز بھی بند رکھے گئے۔
ریلوے نظام متاثر: ناردرن ریلوے نے نئی دہلی اور حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنز پر آنے اور جانے والی 250 سے زائد ٹرینیں منسوخ یا ان کا رخ تبدیل کر دیا، جس کی وجہ سے ریلوے اسٹیشنوں پر ہزاروں مسافر، خاندان اور طلبہ گھنٹوں محصور ہو کر رہ گئے۔ میٹرو اور ریل خدمات کی مکمل بندش کے خلاف سپریم کورٹ میں فوری طور پر توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی ہے۔
ایڈووکیٹ شیلیندر مَنی ترپاٹھی نے ایڈووکیٹ چاند قریشی کے توسط سے داخل کردہ عرضی میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے جمعہ کے روز واضح طور پر کہا تھا کہ “مکھیاں مارنے کے لیے ہتھوڑے کا استعمال نہ کیا جائے” اور ٹرانسپورٹ پر مطلق پابندی لگانے کے بجائے اسے متناسب انداز میں ریگولیٹ کیا جائے۔ پٹیشن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ دہلی پولیس اور ریلوے انتظامیہ نے عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کی جان بوجھ کر خلاف ورزی کی ہے، لہٰذا متعلقہ حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کی جائے۔
ادھر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (SCBA) نے بھی پرامن وکلاء اور خواتین پر طاقت کے استعمال اور ان کی گرفتاریوں پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے چیف جسٹس سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ملک گیر احتجاج کی بنیادی وجہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) اور فارم 6 کے عمل میں مبینہ ہیرا پھیری کے الزامات ہیں۔
مظاہرین اور اپوزیشن کا الزام ہے کہ اس طریقہ کار کے ذریعے مبینہ طور پر کروڑوں ووٹرز کے نام لسٹوں سے خارج کیے جا رہے ہیں، جس سے جمہوری عمل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ احتجاجی تنظیمیں الیکشن کمیشن کی شفافیت بحال کرنے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
اس کریک ڈاؤن کے بعد سیاسی درجہ حرارت انتہائی بلند ہو چکا ہے۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر سخت ردِ عمل دیتے ہوئے کہاکہ ”گیانیش کمار جائیں گے۔ یہ حکومت جائے گی۔ پھر شروع ہوگی جمہوریت کی مرمت۔“
دارالحکومت میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور بڑے پیمانے پر فورسز کا گشت جاری ہے۔


