جامع مسجد سنبھل کے سروے کے خلاف مقامی مسلمانوں کا شدید احتجاج، پتھراؤ کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے شل برسائے، پرامن رہنے کی اپیل

حیدرآباد (دکن فائلز) سنبھل جامع مسجد کے سروے کے خلاف مقامی مسلمانوں نے آج بڑے پیمانہ پر احتجاج کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اتر پردیش کے سنبھل آج جامع مسجد کے سروے کی مخالفت میں مقامی مسلمان سڑکوں پر اتر آئے اور شدید احتجاج کیا۔ احتجاج پرتشدد ہونے پر پولیس نے آنسو گیس کے شل برسائے اور ہجوم کو منتشر کردیا۔ احتجاجی نوجوانوں نے پولیس پر چپل اور پتھراؤ کیا۔

آج صبح جیسے ہی سروے ٹیم جامع مسجد سنبھل پہنچی مسلمانوں نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا، تاہم پولیس کی سخت سیکوریٹی کے درمیان سروے مکمل کیا گیا۔ علاقہ میں پولیس کی بھارتی جمیعت کو تعینات کیا گیا اور فی الحال حالات قابو میں ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار بھی موقع پر پہنچ کر حالات کا جائزہلیا۔

پولیس نے پتھراؤ و تشدد کے واقعات میں ملوث نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔ پولیس عہدیدار نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ہنگامہ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

شدید احتجاج و مخالفت کے درمیان ایڈوکیٹ کمیشن نے آج صبح تقریباً 4 گھنٹوں تک جامع مسجد سنبھل کا سروے کیا۔ اس دوران مسجد کے مختلف علاقوں کی ویڈیو گرافی اور تصویر کشی کی گئی۔ کمیشن کی جانب سے رپورٹ 29 نومبر کو عدالت میں پیش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ہندوتوا گروپ کی جانب سے جامع مسجد سنبھل کو مندر توڑ کر تعمیر کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے مقامی عدالت میں عرضی دائر کی گئی تھی، جس کے بعد عدالت نے مسجد کا سروے کرانے کا حکم دیا تھا۔ قبل ازیں 19 نومبر کو بھی جامع مسجد کا سروے کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مسجد کی انتظامی کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔

ہندو گروپ کا دعویٰ ہے کہ 1529 میں مغل بادشاہ بابر نے ہری ہر مندر کو منہدم کرکے یہاں مسجد تعمیر کی تھی۔ دیگر کچھ تاریخی مساجد کے علاوہ جامع مسجد سنبھل کے سروے کی اطلاعات کے بعد ملک بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں