پورے نتائج آئے بھی نہیں، سویندو ادھیکاری نے ’ہندو-مسلم‘ بیانیہ چھیڑ دیا؟

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے مکمل نتائج سامنے آنے سے پہلے ہی سویندو ادھیکاری نے ابتدائی رجحانات کی بنیاد پر متنازع بیانات دینا شروع کر دیے ہیں، جن میں انہوں نے ووٹنگ کے عمل کو مذہبی زاویے سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔

ابتدائی گنتی میں بی جے پی کو سبقت ملتی دکھائی دے رہی ہے، تاہم نتائج ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود ادھیکاری نے دعویٰ کیا کہ اس مرتبہ ریاست میں ہندو ووٹوں کا “اتحاد” دیکھنے کو ملا ہے، جبکہ مسلم ووٹنگ پیٹرن میں بھی تبدیلی آئی ہے۔

ادھیکاری کے مطابق، ماضی میں مسلم ووٹ بڑی حد تک ترنمول کانگریس کے حق میں جاتا تھا، مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ ووٹ ایک پرو-مسلم جماعت کو منتقل ہوئے جبکہ بی جے پی کو بھی محدود سطح پر مسلم ووٹ ملے، جو ان کے بقول غیر متوقع پیش رفت ہے، خاص طور پر نندی گرام جیسے علاقوں میں۔

انہوں نے وزیر اعظم مودی کی جانب سے “بنگال کی تعمیر کی گیارنٹی” کو بھی بی جے پی کے حق میں فضا ساز قرار دیا، تاہم ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ حتمی تصویر دوپہر تک ہی واضح ہوگی جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ دعوے محض ابتدائی رجحانات پر مبنی ہیں۔

بھبان پور حلقے، جہاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نمائندگی کرتی ہیں، کے حوالے سے ادھیکاری نے کہا کہ مسلم اکثریتی بوتھس میں ٹی ایم سی کو ماضی جیسی بھاری حمایت حاصل نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق 14 میں سے 6 بوتھس ایسے ہیں جہاں پہلے ٹی ایم سی کو 90 سے 95 فیصد ووٹ ملتے تھے، لیکن اس بار اس شرح میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

ادھیکاری نے مزید دعویٰ کیا کہ ہندو اکثریتی بوتھس میں بی جے پی کو برتری حاصل ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے پارٹی کے لیے 135 سے زائد نشستوں کی پیش گوئی بھی کر دی۔ ان کے مطابق یہ رجحان حکومت مخالف لہر اور مذہبی بنیادوں پر ووٹنگ کے امتزاج کا نتیجہ ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مکمل نتائج آنے سے قبل اس طرح کے بیانات نہ صرف قبل از وقت ہیں بلکہ انتخابی عمل کو مذہبی رخ دینے کا تاثر بھی پیدا کرتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ جیسے جیسے گنتی آگے بڑھے گی، کیا یہ ابتدائی دعوے حقیقت کا روپ دھارتے ہیں یا نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں