مغربی بنگال میں جیت کے بعد بی جے پی نے ہندوستان میں ’زعفرانی رنگ کی توسیع‘ کا نقشہ شیئر کردیا!

حیدرآباد (دکن فائلز) مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج میں بی جے پی کی جیت یقینی ہے جس کے بعد ملک بھر میں بی جے پی کے کارکنوں میں جوش و خروش دیکھا جارہا ہے۔ ریاستی سیاست میں بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں بلکہ قومی سطح پر بھی سیاسی توازن میں واضح جھکاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ابتدائی رجحانات اور موصولہ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی ایک بڑی اکثریت کے ساتھ بنگال میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھر رہی ہے، جو کہ ایگزٹ پولز کی پیش گوئیوں کے عین مطابق ہے۔

بی جے پی نے اس موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک خصوصی پوسٹ جاری کرتے ہوئے اپنی سیاسی پیش رفت کو “زعفرانی رنگ کی توسیع” سے تعبیر کیا۔ پارٹی نے ہندوستان کے نقشے میں ان ریاستوں کو زعفرانی رنگ میں دکھایا جہاں بی جے پی یا اس کے اتحادی برسر اقتدار ہیں، اور دعویٰ کیا کہ “دہلی سے بنگال تک یہ پھیلاؤ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ عوام کے ترقی کے عزم اور اعتماد کی علامت ہے”۔ پوسٹ میں مزید کہا گیا کہ “یہ ایک عظیم داستان کا نیا باب ہے، اور ہم سب مل کر 2047 تک وِکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان) کی تعمیر کریں گے”۔

بنگال میں کامیابی کے ساتھ ہی قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کے زیر اقتدار ریاستوں کی تعداد بڑھ کر 21 ہو گئی ہے، جبکہ بی جے پی خود 15 ریاستوں میں براہ راست حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ اس کے علاوہ بہار میں جے ڈی یو، آندھرا پردیش میں ٹی ڈی پی، ناگالینڈ میں نیشنل پیپلز فرنٹ اور میگھالیہ میں نیشنل پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کی بدولت این ڈی اے کی مجموعی طاقت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

بی جے پی کا پوسٹ دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/BJP4India/status/2051214420504903959

دوسری جانب اپوزیشن اتحاد “انڈیا” کو صرف چھ ریاستوں تک محدود ہو کر رہ جانا پڑا ہے، جو اس کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکہ سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ کیرالا میں کامیابی نے کچھ حد تک راحت فراہم کی، تاہم مجموعی نتائج نے کانگریس کی قیادت والے اتحاد کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ کانگریس اس وقت کرناٹک، تلنگانہ اور ہماچل پردیش میں تنہا حکومت رکھتی ہے، جبکہ جھارکھنڈ میں جے ایم ایم کے ساتھ اتحاد میں ہے۔

پنجاب میں عام آدمی پارٹی کی حکومت ہے، تاہم یہ اتحاد “انڈیا” کا حصہ نہیں۔ تمل ناڈو میں ڈی ایم کے اور کانگریس اتحاد کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جہاں اداکار وجئے کی قیادت میں تمل ویٹری کژگم (ٹی وی کے) نے حیران کن کارکردگی دکھاتے ہوئے 234 میں سے 110 نشستوں پر سبقت حاصل کر لی ہے۔ آسام میں بھی کانگریس کو نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں سے تین مغربی بنگال، آسام اور پڈوچیری میں بی جے پی اور اس کے اتحادیوں نے واضح برتری حاصل کی ہے۔ بنگال میں بی جے پی 190 سے زائد نشستیں جیتنے کی پوزیشن میں ہے، جبکہ آسام میں بھی بڑی اکثریت متوقع ہے۔ پڈوچیری میں این ڈی اے نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کیرالا میں 140 میں سے 100 سے زائد نشستیں یو ڈی ایف کے کھاتے میں جاتی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ تمل ناڈو میں ٹی وی کے کی لہر برقرار ہے۔

بنگال میں بی جے پی کی اس ممکنہ تاریخی کامیابی پر کولکاتا میں پارٹی کارکنان نے خوشیاں مناتے ہوئے روایتی اسنیکس “جھال موری” تقسیم کیں۔ ذرائع کے مطابق وزیر اعظم مودی پیر کے روز دہلی میں بی جے پی ہیڈکوارٹر کا دورہ کر کے کارکنان سے خطاب بھی کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں