حیدرآباد (دکن فائلز) اجمیر کی ضلع عدالت میں ایک نہایت حساس اور اہم معاملے پر تفصیلی سماعت ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اجمیر درگاہ کے احاطے میں ایک قدیم شیو مندر موجود ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ عوامی اور مذہبی حلقوں میں بھی خاصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔
یہ درخواست وشنو گپتا، قومی صدر ہندو سینا اور راجوردھن سنگھ، قومی صدر مہارانا پرتاب سینا کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں تاریخی حوالوں، خصوصاً اکبر نامہ، کا ذکر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس مقام پر پہلے شیو مندر موجود تھا۔
سماعت کے دوران درگاہ سے وابستہ خدام (موروثی متولیوں) کی دو اہم تنظیموں، بشمول درگاہ دیوان کے دفتر، نے دیوانی ضابطۂ کار (CPC) کے آرڈر 1 رول 10 کے تحت درخواستیں دائر کر کے خود کو اس مقدمے میں فریق بنانے کی استدعا کی۔ ان کا مؤقف تھا کہ درگاہ سے ان کا تاریخی اور موروثی تعلق ہے، اس لیے ان کے مفادات کے تحفظ کے لیے انہیں مقدمے میں شامل کیا جانا ضروری ہے۔
دونوں فریقین نے عدالت کے سامنے تفصیلی قانونی دلائل پیش کیے اور دستاویزی شواہد بھی جمع کرائے۔ درخواست گزاروں کے وکیلوں نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملے کا فیصلہ سائنسی بنیادوں پر ہونا چاہیے، جس کے لیے آثارِ قدیمہ کے محکمے سے سروے اور تحقیق کروائی جائے۔
سینئر وکیل اے پی سنگھ نے عدالت میں کہا کہ اکبر نامہ میں اس مقام پر شیو مندر کا ذکر موجود ہے، لہٰذا اس کی سچائی کی تصدیق کے لیے سائنسی تحقیق ضروری ہے۔ دوسری جانب درگاہ دیوان کے وکیل سدھارتھ نے کہا کہ تمام متعلقہ قانونی نکات اور تاریخی حقائق عدالت کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں اور عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
سماعت کے بعد وشنو گپتا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آج کی سماعت میں تمام پہلوؤں پر بحث ہوئی ہے اور اب وہ عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں گے، جس کے بعد آئندہ حکمت عملی طے کی جائے گی۔
یہ کیس اس وقت انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں عدالت کا آئندہ فیصلہ نہ صرف مقدمے کی سمت متعین کرے گا بلکہ اس کے سماجی اور مذہبی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔


