حیدرآباد (دکن فائلز) اتر پردیش کے سیتا پور میں 40 سال سے دین اسلام کی خدمت میں مصروف مدرسہ اسلامیہ انوار العلوم کو منہدم کردیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں حکام کے حوالہ سے بتایا کہ مدرسہ کو سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا جس کا مقصد کاشت کے لیے تھا اور اس مدرسہ کی کوئی رجسٹریشن یا سرکاری شناخت نہیں تھی۔
بی جے پی لیڈر آشیش چودھری کی شکایت پر مدرسہ کو منہدم کرنے کی کاروائی کی گئی۔ 2018 میں تحصیل کی عدالت نے مدرسہ کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم اس وقت کوئی کاروائی نہیں کی گئی تھی۔ تاہم اب ایک شکایت کے بعد ایس ڈی ایم شیکھا شکلا نے انہدام کے احکامات جاری کیے تھے۔ انہدام کاروائی نائب تحصیلدار دیناناتھ یادو کی نگرانی میں عمل میں لائی گئی جبکہ اس موقع پر پولیس کی بھاری جمیعت کو تعینات کیا گیا تھا۔
مدرسہ کے بانیوں میں سے ایک وسیم نے انہدام پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ “یہ مدرسہ 40 سال سے یہاں لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔ حکومت کی اچانک کارروائی غیر منصفانہ ہے، خاص طور پر جب ہمیں کوئی متبادل فراہم نہیں کیا گیا ہے”۔
مدرسہ کو منہدم کرنے پر کچھ گاؤں والوں نے خوشی کا اظہار کیا تو مقامی مسلمانوں نے بلڈوزر کاروائی پر تشویش کا اظہار کیا۔ دی ابزرور پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ایک مسلم شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ’صرف ہمارے مدرسوں کو ہی کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے؟ حکومت دیگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایسی ہی کارروائی کیوں نہیں کرتی؟


