حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے مرادآباد میں گائے ذییحہ کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک اور مسلم نوجانوں کو ہجوم نے پیٹ پیٹ کر قتل کردیا۔ گذشتہ روز پیر کو شدت پسند بھیڑ نے ‘شاہدین’ نامی مسلم نوجوان پر حملہ کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد شدید زخمی حالت میں شاہدین کو میرٹھ کے اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں آج صبح وہ زحموں کی تاب نہ لاکر جاں بحق ہوگیا۔
مرادآباد کے ماجھولا میں شاہدین کو شدت پسند گئورکشکوں نے گائے ذبیحہ کا الزام عائد کرتے ہوئے بری طرح ماراپیٹا۔ شاہدین کے بھائی نے پولیس میں شکایت درج کرائی جس میں کہا گیا کہ ان کے بھائی پرحملہ کرکے شدید زخمی کیا گیا۔ شاہدین زخموں کی تاب نہ لاسکے اور ان کی موت ہوگئی۔
بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ رات کے وقت ایک گروپ بیل جیسا نظر آنے والا جانور ذبح کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ تبھی کچھ گئورکشک وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے شاہدین کو پکڑ لیا جبکہ دیگر افراد وہاں سے بھاگنے میں کامیاب رہے۔ غنڈوں نے شاہدین کو بری طرح مارا پیٹا۔
پولیس نے شاہدین کے بھائی کی شکایت پر ملزمین کے خلاف غیر ارادی طور پر قتل کا کیس درج کیا ہے جبکہ پولیس نے شاہدین اور اس کے ساتھیوں کے خلاف گائے کے ذبیحہ کے الزامات میں مقدمہ درج کیا۔ ایس پی رن وجے سنگھ نے کہا کہ شاہدین کی موت کے بعد قلاقہ میں کشیدہ حالات ہیں، شاہدین کی لاش کو پوسٹ کےلئے مردہ خانہ منتقل کیا گیا اور علاقہ میں امن و سلامتی کی برقراری کےلئے پولیس فورس کو تعینات کیا گیا۔ حکام نے شہریوں سے پر امن رہنے کی اپیل کی ہے اور کسی بھی طرح کی افواہوں پر یقین نہ کرنے کو کہا ہے۔


