حیدرآباد (دکن فائلز) یکم جنوری 2025 سے، متعدد ریگولیٹری اور مالیاتی تبدیلیاں لاگو ہوگئیں، جس کا ملک بھر میں عوام پر اثر ہوگا۔ ایمپلائز پروویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے طریقہ کار میں تبدیلیوں سے لے کر یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) تک، نئے سال میں کی جائیں گی کچھ تبدیلیاں۔ اسی طرح آر بی آئی نے کچھ بنک اکاونٹس کو بند کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ای پی ایف او کا نیا اصول
EPFO سنٹرلائزڈ پنشن ادائیگی کے نظام (CPPS) کے حصہ کے طور پر یکم جنوری 2025 سے پنشن نکالنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے تیار ہے۔ پنشنرز کو اضافی تصدیق سے متعلق مشکلات کو ختم کرتے ہوئے اب ملک کے کسی بھی بنک سے اپنی پنشن نکالنے کی سہولت حاصل ہوگی۔
رپورٹس بتاتی ہیں کہ ای پی ایف او جلد ہی ایک اے ٹی ایم کارڈ جاری کرے گا جس سے صارفین کسی بھی وقت پیسے نکالنے کے قابل ہوں گے۔
جی ایس ٹی
جی ایس ٹی پورٹل پر بہتر سیکورٹی کے لیے ٹیکس دہندگان کے لیے ملٹی فیکٹر تصدیق (MFA) کو لازمی بنایا جائے گا۔ مزید برآں، ای وے بلز (EWBs) صرف بیس دستاویزات کے لیے بنائے جا سکتے ہیں جو 180 دن سے زیادہ پرانے نہ ہوں۔
یو پی آئی اور کسان قرض
ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے ایک حالیہ سرکلر کے مطابق، آج سے شروع ہونے والے UPI 123Pay، جس کا استعمال اسمارٹ فونز کے ذریعہ آن لائن ادائیگی کےلئے ہوگا یکم جنوری 2025 سے اس کی لین دین کی حد میں اضافہ کیا گیا، نئی حد دس ہزار روپئے ہوگی جبکہ یہ پہلے صرف 5 ہزار تھی۔ مزید برآں، مرکزی بینک نے کسانوں کے لیے غیر محفوظ قرضوں کی حد کو 1.60 لاکھ روپے سے بڑھا کر 2 لاکھ روپے کر دیا ہے۔ یہ اضافہ، آج سے موثر ہے، کا مقصد کسانوں کو مزید مالی مدد فراہم کرنا ہے۔
آر بی آئی نے یکم جنوری 2025 سے کچھ مخصوص بنک اکاونٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق غیرفعال اور زیرو بیلنس اکاونٹس کو بند کردیا جائے گا۔ اطلاعات کے مطابق اس طرح لاکھوں اکاونٹس بند ہوجائیں گے۔ ایسے بنک اکاونٹس جو ایک یا دو سال سے زیادہ عرصہ تک غیرفعال رہے ہیں انہیں بند کیا جاسکتا ہے اس کے علاوہ ایک عرصہ سے ایسے اکاونٹ جس میں کوئی رقم نہیں ہے انہیں بھی بند کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ کے بنک اکاونٹ میں کچھ عرصہ سے لین دین نہیں کیا ہے تو فوری طور پر بنک انتظامیہ سے اس سلسلہ میں مزید تفصیلات حاصل کریں اور اپنے بنک کو بند ہونے سے بچالیں۔


