موسم بھی ہمارے خلاف ہو چکا ہے؟ غزہ میں شدید بارش اور سیلاب جیسی صورتحال، ہزاروں خیمے ڈوب گئے، بے گھر فلسطینیوں کی مشکلات میں مزید اضافہ، سردی نے زندگی اجیرن بنادی

حیدرآباد (دکن فائلز) غزہ میں شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے زندگی اجیرن ہوگئی۔ سیلابی پانی نے ہزاروں خیموں کو ڈبو دیا ہے جس کے باعث مقامی خاندان شدید سردی میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق غزہ کی تقریباً 20 لاکھ آبادی میں سے بڑی تعداد اسرائیلی حملوں کے دوران اپنے گھروں سے محروم ہو چکی ہے۔

غزہ کی پٹی موسم سرما کی آمد پر دہشت زدہ ہے۔ آسمان سے گرتی بارش یہاں کسی نعمت کا پیغام نہیں لاتی، بلکہ اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کی تباہ کاریوں کے بیچ ایک نئے عذاب کا روپ دھار لیتی ہے۔ سرد ہواؤں میں نمی نہیں، غم اور بے بسی بکھری ہے۔ بادلوں میں بارش کی مہربانی نہیں، خیموں کو ڈبونے کی دھمکی ہے۔ غزہ کا ہر بے گھر خاندان آج اس سوال میں ڈوبا ہے کہ “کیا موسم بھی اب ہمارے خلاف ہو چکا ہے؟”۔

یہاں ایک خیمے کے اندر، گیلی مٹی پر رکھے ایک پھٹے پردے کے پیچھے، ایک ماں اپنے بچوں کے لرزتے جسموں کو سمیٹتی ہے۔ “ام جهاد” جیسی ہزاروں مائیں بارش کی ہر بوند کے ساتھ اپنی بے بسی کو کڑھتے دیکھتی ہیں۔ خیمے کی پرانی چادر جب ٹھنڈی ہوا میں کپکپاتی ہے تو ماں کے دل کی دھڑکن بھی اس کے ساتھ لرز اٹھتی ہے۔ بارش اندر ٹپکتی ہے، کپڑے، بستر، برتن، زندگی سب بھیگ جاتے ہیں۔ بچے جو کبھی بارش میں کھیلتے تھے، اب اس کی رم جھم سنتے ہی ماں کے آغوش میں سہم کر چھپ جاتے ہیں۔

غزہ کی گلیاں جو کبھی بارش کے بعد مہکتی مٹی کی خوشبو سے بھر جاتی تھیں، آج محض کیچڑ زدہ راستے ہیں جن پر قدم رکھنا بھی اذیت ہے۔ خیموں کے باہر ہر طرف گندگی، پانی، ملبہ اور سردی کا بے رحم امتزاج ہے۔ موسم سرما نے گویا اعلان کر دیا ہے کہ جنگ کے زخم ابھی بھرے نہیں، بلکہ ایک نئی اذیت نے ان پر نمک چھڑکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

غزہ کے بے گھر بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے لیے بارش کا پہلا قطرہ ایک نئے محاصرے کی ابتدا ہوتی ہے۔ راتیں سب سے ڈراؤنی ہوتی ہیں۔ کیچڑ میں دھنسے خیمے میں بیٹھے خاندان اپنی ٹمٹماتی موم بتی بجھنے سے پہلے ہی خوفزدہ ہو کر سوچتے ہیں کہ اگر بارش کا زور بڑھ گیا تو کیا خیمہ ان کا ساتھ دے پائے گا؟ کیا پانی اندر گھس کر بچوں کے قدموں تک پہنچ جائے گا؟ کیا یہ رات بھی جاگ کر گزاری جائے گی؟

یہ صرف موسم نہیں، یہ ایک جنگ ہے۔ ایک ایسی جنگ جس میں دشمن کی جگہ ہوا لیتی ہے، بارش لیتی ہے، سرد رات لیتی ہے۔ اور خیمہ ایک ایسے محاذ پر کھڑا ہے جہاں وہ شکست کے سوا کچھ نہیں جھیل سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں