حیدرآباد (دکن فائلز) مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے جب اسرائیل و امریکہ نے مشترکہ طور پر ایران کے دارالحکومت تہران پر حملے شروع کردیے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتہ کی صبح تہران کے مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ بعض حملے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کے قریب بھی رپورٹ ہوئے۔
یہ افسوسناک امر ہے کہ مقدس ماہِ رمضان، جو صبر، رحمت اور امن کا پیغام دیتا ہے، اسی دوران ایک خودمختار ملک پر مشترکہ فوجی حملہ کیا گیا۔ ایسے وقت میں جب سفارتی کوششیں جاری تھیں، طاقت کا استعمال خطے کو ایک وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کے مرکز میں کم از کم تین دھماکے ہوئے، جبکہ مہرآباد ایئرپورٹ اور دیگر حساس تنصیبات کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ اشفہان، کراج ، قم اور کیرمانشاہ میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ایرانی حکام نے فوری طور پر فضائی حدود بند کر دیں، جبکہ عراق نے بھی احتیاطاً اپنی فضائی ٹریفک معطل کر دی۔
برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای حملوں کے وقت تہران میں موجود نہیں تھے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ حملوں کے بعد ایران میں انٹرنیٹ اور فون سروسز متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں، اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی اور شہریوں کی بڑی تعداد نے تہران چھوڑنے کی کوشش کی، جس کے باعث پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں لگ گئیں۔
دوسری جانب اسرائیل میں بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے۔ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 08:15 پر پورے ملک میں وارننگ جاری کی گئی۔ اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا کہ یہ اقدام ممکنہ ایرانی میزائل حملوں کے خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے اور عوام کو محفوظ پناہ گاہوں کے قریب رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے “خطرات کے خاتمے کے لیے پیشگی اقدام” قرار دیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتین یاہو پہلے ہی ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو اسرائیل کے لیے بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں اور وہ کسی ایسے معاہدے کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو صرف ایران کے جوہری پروگرام تک محدود ہو۔
امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ بھی اس کارروائی میں شریک تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ اس سے قبل ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے فوجی تیاریوں کا عندیہ دے چکے تھے۔ اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات جاری تھے اور امید کی جا رہی تھی کہ سفارتی عمل کے ذریعے کشیدگی کم کی جا سکے گی۔ ایران نے عندیہ دیا تھا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر کچھ پابندیوں پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام یا خطے میں اتحادی گروہوں کے حوالے سے کسی بھی قسم کی شرائط کو مسترد کر دیا تھا۔
ویڈیو دیکھنے کےلئے لنک پر کلک کریں:
https://x.com/i/status/2027630380795216330
حملوں کے بعد پورے خطے میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ قطر میں امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے کو پناہ گاہوں میں منتقل کر دیا ہے، جبکہ مختلف ممالک نے اپنے شہریوں کے لیے سفری ہدایات جاری کر دی ہیں۔


