حیدرآباد (دکن فائلز) ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد ایران نے اسرائیل پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیے ہیں۔ اسرائیل کے مختلف شہروں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے اور شہری بڑی تعداد میں زیرِ زمین پناہ گاہوں کی جانب منتقل ہو گئے۔
اسرائیلی تجارتی مرکز تل ابیب میں سائرن بجتے ہی شہریوں نے انڈر گراؤنڈ پارکنگ ایریاز اور محفوظ مقامات میں پناہ لی۔ بعض شہریوں کا کہنا تھا کہ رہائشی عمارتوں میں مناسب پناہ گاہیں موجود نہیں، اس لیے زیر زمین کار پارکنگ ہی نسبتاً محفوظ جگہ ہے۔ غیر ملکی شہریوں نے بھی خوف و ہراس کی فضا کا ذکر کیا اور کہا کہ اگر جنگ طویل ہوئی تو انہیں مستقل طور پر انہی مقامات پر رہنا پڑ سکتا ہے۔
اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق تل ابیب میں میزائل گرنے سے 121 افراد زخمی ہوئے جبکہ ایک خاتون ہلاک ہوئی۔ اسرائیلی اخبار کے مطابق کم از کم 40 عمارتوں کو نقصان پہنچا اور 200 سے زائد رہائشیوں کو عارضی طور پر ہوٹلوں میں منتقل کیا گیا۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام کی مدد سے بیشتر میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے گئے، تاہم کچھ میزائل شہری علاقوں میں گرے۔ یروشلم اور دیگر شہروں میں بھی میزائل مار گرانے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ حیفہ کے قریب ایک دھماکے کی تصدیق کی گئی جبکہ بعض میزائل بحیرہ روم کی سمت گرے۔
ایرانی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ 90 فیصد سے زائد میزائل اپنے اہداف پر لگے، اور بعض کارروائیوں میں “فتح” نامی ہائپرسونک میزائل استعمال کیے گئے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔
وہیں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں موجود 27 امریکی اڈوں پر حملے شروع کر دیے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حالیہ بمباری کے جواب میں چھٹے مرحلے کے حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ اس نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 27 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسرائیل کے تل نوف ایئربیس، تل ابیب میں واقع اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈکوارٹرز ہاکیریا، اور اسی شہر میں ایک بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس پر بھی حملے کیے گئے۔
آئی آر جی سی نے مزید خبردار کیا کہ ایرانی افواج انتقام کا ایک مختلف اور سخت قدم اٹھائیں گی اور پے در پے تھپڑ رسید کرے گی۔ ایران کے جوابی حملے سے خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔


