امریکی و اسرائیلی حملہ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے، 40 روزہ سوگ کا اعلان

حیدرآباد (دکن فائلز) ایران کے سرکاری میڈیا نے اتوار کی صبح تصدیق کی ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک بڑے امریکی۔اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہوگئے۔ 86 سالہ رہنما 1989 سے ایران کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز تھے اور ملکی پالیسیوں پر حتمی اختیار رکھتے تھے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی اور خبر رساں ادارے نے بتایا کہ تہران کے وسط میں واقع ان کے کمپاؤنڈ کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ اپنے دفتر میں جاں بحق ہوئے۔ سرکاری نشریات میں سیاہ پٹی کے ساتھ آرکائیو مناظر نشر کیے گئے اور ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور سات روزہ عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق سپریم لیڈر کے قریبی مشیر علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی حملے میں جاں بحق ہوئے۔ ایرانی حکام نے اس کارروائی کو “سنگین جرم” قرار دیتے ہوئے بھرپور اور مؤثر جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خامنہ ای کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے “اپنا ملک واپس لینے کا سب سے بڑا موقع” ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پیغام میں خبردار کیا کہ اگر ایران نے جوابی کارروائی کی تو اسے ایسی طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا “جو پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔”

ایران نے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ دوحہ، منامہ، دبئی اور اربیل سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے متعدد میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب اپنی “شدید ترین کارروائی” کی تیاری کر رہا ہے۔ قومی سلامتی سے وابستہ عہدیداروں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کو اپنے اقدام پر پچھتانا پڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں