خامنہ ای کی شہادت کے بعد صدر پزشکیان کا پہلا بیان! امریکہ و اسرائیل کو کیا وارننگ دی؟

حیدرآباد (دکن فائلز) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کی شہادت کی اطلاعات سامنے آئیں، ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا پہلا باضابطہ ردِعمل سامنے آ گیا ہے۔

اپنے تعزیتی اور پالیسی بیان میں صدر پزشکیان نے کہا کہ سپریم لیڈر اور دیگر عہدیداروں کا قتل ایران کے خلاف سنگین جرم اور مسلمانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس ’’تاریخی جرم‘‘ کے ذمہ داروں اور اس کا حکم دینے والوں سے انصاف اور انتقام لینا اسلامی جمہوریہ ایران کا ’’جائز حق اور فرض‘‘ ہے، اور ایران اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

صدر نے شہید رہنماؤں کے اہل خانہ اور پوری قوم سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار کے دفاع کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گا۔

دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای ثابت قدمی، تدبر اور راہِ حق میں استقامت کی علامت تھے۔ ان کے بقول، وہ عزت، حکمت اور مزاحمت کا ایک دائمی ورثہ چھوڑ گئے ہیں اور ایران اس پرچم کو مزید بلندیوں تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اب ایران کے آئندہ اقدامات اور نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل پر مرکوز ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں