اسرائیلی فورسز کی بربریت کی انتہا: دو نہتے فلسطینیوں کو قریب سے گولیاں مار کر قتل! صیہونی ملک عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے اور دنیا خاموش (ویڈیو دیکھیں)

حیدرآباد (دکن فائلز) اکرامیہ ویسٹ بینک میں اسرائیلی فورسز نے سریندر کرنے والے دو نہتے فلسطینیوں کو فائرنگ کرکے قتل کردیا، جس نے پوری دنیا میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ فلسطینی حکام نے اس واقعہ کو “سَرِعام، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا سرد خون کا قتل” قرار دیتے ہوئے اسرائیل کی سنگین جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی ہے۔

عرب ٹی وی چینلز پر چلنے والی ویڈیوز میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ دونوں نوجوان گیراج سے ہاتھ اوپر اٹھائے باہر آتے ہیں، اپنی معصومیت ظاہر کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کے پاس کسی قسم کا اسلحہ یا دھماکہ خیز مواد نہیں ۔ اسرائیلی فوجی انہیں زمین پر لٹاکر واپس گیراج میں جانے کا حکم دیتے ہیں، لیکن اگلی ہی ویڈیو میں یہ دل دہلا دینے والا منظر دکھائی دیتا ہے کہ نوجوان زمین پر بے بسی سے لیٹے ہیں اور فائرنگ کی آواز آتی ہے، چند لمحوں میں دونوں کے جسم بے جان ہو جاتے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ دونوں “وَانٹِڈ ملٹنٹس” تھے، لیکن اس وحشیانہ قتل کی وضاحت دینے میں صیہونی بُری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔ ہاتھ اوپر اٹھا کر سرینڈر ہونا، زمین پر لیٹ جانا اور پھر بھی قتل کر دینا، یہ واضح طور پر انٹرنیشنل ہیومن رائٹس لا اور جنگی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

اس کے برعکس، اسرائیل کے نیشن سکیورٹی منسٹر اِيتمار بن گوئیر نے اپنی روایتی نفرت انگیزی دکھاتے ہوئے قاتل فوجیوں کی تعریف کی اور کہا کہ “اِن دہشت گردوں کو مرنا ہی تھا” یہ بیان خود اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیلی قیادت کے لیے فلسطینیوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں۔

فلسطینی وزیراعظم کے دفتر نے اس کارروائی کو براہ راست ماورائے عدالت قتل اور عالمی قوانین کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ اس ظلم کے درمیان، اسرائیلی حراست میں 9 ماہ سے قید 16 سالہ فلسطینی-امریکی لڑکے کی رہائی کی خبر ضرور آئی، لیکن یہ واقعہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اسرائیلی فورسز کی جارحیت فلسطینیوں کی زندگیوں کو معمول کے مطابق روند رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں