برطانیہ میں قبولِ اسلام کی لہریں تیز: فلسطینیوں کی ثابت قدمی نے لاکھوں انسانوں کے دلوں پر اثر ڈالا، غزہ کے ملبے سے اٹھنے والی دعاؤں نے سمندر پار دلوں کو ایمان سے روشن کر دیا (نئی تحقیق پر خصوصی رپورٹ)

حیدرآباد (دکن فائلز) دنیا بھر میں بھڑکتی جنگیں، طاقتوروں کا ظلم، بے بسوں کی چیخیں اور ناانصافی کا پھیلتا ہوا اندھیرا، یہ سب کچھ صرف سیاسی نقشے نہیں بدل رہا، بلکہ دلوں کی دنیا بھی تبدیل کر رہا ہے۔ برطانیہ میں سامنے آنے والی ایک نئی تحقیق نے ثابت کر دیا ہے کہ عالمی سطح پر جاری ظلم، خصوصاً غزہ کے خون سے لکھی گئی داستانِ مظلومیت نے ہزاروں برطانوی شہریوں کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور اسی جھنجھوڑ نے انہیں اسلام کے دروازے تک لا کھڑا کیا۔

یہ حیران کن انکشاف برطانوی ادارے انسٹی ٹیوٹ فار دی امپیکٹ آف فیتھ اِن لائف (IIFL) کی تازہ ترین تحقیق میں کیا گیا ہے، جس نے پہلی بار منظم ڈیٹا کے ذریعے بتایا ہے کہ عالمی ناانصافی، جنگوں کے المیے اور غزہ کے زخموں نے لوگوں کے اندر ایک نئی روحانی طلب پیدا کر دی ہے، اور وہ جواب تلاش کرتے ہوئے اسلام کے پیغامِ عدل و رحمت تک پہنچ گئے ہیں۔

تحقیق میں شامل 2,774 برطانوی شہریوں میں سے اسلام قبول کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے کھل کر اعتراف کیا کہ ’دنیا بھر میں جاری جنگیں، خصوصاً غزہ میں ہونے والا ظلم، ان کے دلوں کو بدل دینے کا سبب بنا۔ 20 فیصد لوگوں نے عالمی تنازعات کو اپنی تبدیلی کا سب سے بڑا محرّک قرار دیا۔ 18 فیصد نے اسلام کو ذہنی سکون، روحانی راحت اور زندگی کے مقصد سے جوڑ کر قبول کیا۔

تحقیق کہتی ہے کہ لوگ اس نتیجے تک پہنچے کہ اسلام محض ایک مذہب نہیں، بلکہ عدل، اخلاق، ڈسپلن اور انسانیت کا ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جو ظلم سے بھری اس دنیا میں زندگی کو معنی دیتا ہے۔

2023 اور 2024 کے دوران غزہ میں بہتے خون، تباہ شدہ گھروں، ملبے میں دبے بچوں، اور فلسطینیوں کی ثابت قدمی نے لاکھوں انسانوں کے دلوں پر اثر ڈالا۔ برطانوی نوجوانوں نے اعتراف کیا کہ فلسطینیوں کے صبر نے انہیں قرآن پڑھنے پر راغب کیا۔ بہت سے افراد نے کہا کہ غزہ کے مناظر نے انہیں حق و باطل پر غور کرنے پر مجبور کر دیا۔ اسلام کا تصورِ عدل، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ، اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہنے کا پیغام ان کے دلوں میں اتر گیا۔

لندن کی مشہور ایسٹ لندن مسجد سمیت متعدد اسلامی مراکز نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ بعض دنوں میں درجنوں لوگ کلمہ شہادت پڑھتے ہیں۔ مساجد میں آنے والوں کی تعداد لگاتار بڑھ رہی ہے۔

یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ لوگ اسلام کو صرف عبادات کی وجہ سے نہیں اپنا رہے ہیں بلکہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا نظریہ، عدل کا غیر متزلزل اصول، انسانیت کی وحدت کا پیغام، زندگی کے مقصد کا احساس، اور دلوں کے زخموں پر مرہم رکھنے والی روحانی طاقت، یہ سب انہیں اسلام کی طرف کھینچ لاتے ہیں۔

دنیا کی بے حسی کے مقابلے میں اسلام کا تصورِ عدل اور رحم، برطانیہ سمیت دنیا بھر میں نئی روحانی بیداری پیدا کر رہا ہے۔ یہ صرف ایک خبر نہیں، دلوں کی دھڑکن بدلنے والی حقیقت ہے۔غزہ کے ملبے سے اٹھنے والی دعاؤں نے سمندر پار دلوں کو بھی روشن کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں