حیدرآباد (دکن فائلز) بھارتی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے ایک متنازعہ قدم اٹھاتے ہوئے کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کو ہدایت دی ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے فاسٹ بولر مصتفیض الرحمان کو آئندہ آئی پی ایل سیزن سے قبل اپنی ٹیم سے ریلیز کر دے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب شدت پسندوں، بعض سیاسی لیڈروں اور سوشل میڈیا پر غیر ملکی کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی کے سکریٹری دیواجیت سائیکیا نے تصدیق کی کہ، “بی سی سی آئی نے کولکتہ نائٹ رائیڈرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مصتفیض الرحمان کو اپنی ٹیم سے ریلیز کریں۔ یہ فیصلہ حالیہ حالات اور پیش رفت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔”
واضح رہے کہ مصتفیض الرحمان کو آئی پی ایل 2026 کے منی آکشن میں کے کے آر نے 9.20 کروڑ روپے میں خریدا تھا۔ تاہم، بنگلہ دیش میں حالیہ سیاسی کشیدگی، اقلیتی ہندوؤں کے خلاف تشدد، بھارتی سفارت خانے پر حملوں اور ویزا پابندیوں کو جواز بنا کر ایک مخصوص سیاسی و مذہبی طبقہ مسلسل ان کی مخالفت کر رہا تھا۔
اس مہم میں شدت اس وقت آئی جب بی جے پی رہنما کاؤستَو باگچی نے کولکتہ میں منعقد ہونے والے آئی پی ایل میچز میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی شرکت پر علانیہ اعتراض جتایا۔ اگرچہ بی سی سی آئی نے براہِ راست سیاسی دباؤ کو تسلیم نہیں کیا، لیکن سائیکیا کے بیان سے واضح ہے کہ بورڈ نے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے تنازع سے بچنے کی راہ اختیار کی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کھیل کو سیاست سے الگ رکھنے کے اصول کے سراسر خلاف ہے اور اس سے یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ بی سی سی آئی شدت پسند دباؤ کے سامنے جھک گئی ہے۔
بی سی سی آئی نے کے کے آر کو متبادل کھلاڑی شامل کرنے کی اجازت دے دی ہے، تاہم یہ سوال بدستور برقرار ہے کہ کیا آئندہ بھی کسی غیر ملکی کھلاڑی کو سیاسی حالات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے گا؟


