بڑی خبر: وینزویلا پر امریکہ نے حملہ کردیا؟ دارالحکومت کراکس میں زور دار دھماکے، ٹرمپ پر سنگین فوجی جارحیت کا الزام

حیدرآباد (دکن فائلز ویب ڈیسک) وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں ہفتہ کی علی الصبح متعدد زور دار دھماکے سنائی دیے، جن کے ساتھ فضائی جہازوں جیسی آوازیں بھی سنی گئیں۔ صدر نکولس مادورو کی قیادت والی حکومت نے ان حملوں کو امریکہ کی جانب سے کی گئی “انتہائی سنگین فوجی جارحیت” قرار دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 2 بجے( کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنائی دینا شروع ہوئیں، جو کچھ دیر تک جاری رہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں شہر کے مختلف حصوں میں عمارتوں کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

سرکاری بیان کے مطابق کراکس کے جنوبی علاقوں میں، جہاں ایک بڑا فوجی اڈہ واقع ہے، بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ اس کے علاوہ حملے میرانڈا، آراگوا اور لا گوایرا ریاستوں میں بھی کیے گئے۔

وینزویلا کی حکومت نے ایک سخت بیان میں کہا: “وینزویلا امریکہ کی موجودہ حکومت کی جانب سے وینزویلا کی سرزمین اور عوام کے خلاف کی گئی انتہائی سنگین فوجی جارحیت کو مسترد، مذمت اور عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرتا ہے۔”

امریکی میڈیا اداروں سی بی ایس نیوز اور فوکس نیوز نے نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ کراکس پر کیے گئے ان حملوں کے پیچھے امریکی افواج کا ہاتھ ہے۔ تاہم واشنگٹن کی جانب سے تاحال سرکاری سطح پر تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں وینزویلا میں منشیات کے کارٹلز کے خلاف زمینی کارروائیوں کی دھمکیاں دی تھیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے کیریبین سمندر میں ایک بحری ٹاسک فورس بھی تعینات کر رکھی ہے۔

امریکی صدر نے پیر کے روز دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے وینزویلا کے ساحل کے قریب منشیات بردار کشتیوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک بندرگاہی تنصیب کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ فوجی کارروائی تھی یا خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی کارروائی، اور نہ ہی مقام کی تصدیق کی۔

اطلاعات کے مطابق یہ وینزویلا کی سرزمین پر پہلا باقاعدہ زمینی حملہ ہو سکتا ہے۔ صدر مادورو نے پیر کے حملے کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید، البتہ جمعرات کو انہوں نے کہا کہ وہ امریکی دباؤ کے باوجود واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ مسلسل صدر مادورو پر منشیات کے ایک بڑے کارٹیل کی سربراہی کا الزام عائد کر رہی ہے، تاہم مادورو نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دراصل وینزویلا کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتا ہے، کیونکہ ملک کے پاس دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں۔

امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں وینزویلا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے اس کی فضائی حدود کو غیر رسمی طور پر بند کیا، مزید پابندیاں عائد کیں اور وینزویلا کے تیل سے لدے ٹینکروں کو ضبط کرنے کے احکامات جاری کیے۔

ستمبر سے اب تک امریکی افواج کیریبین اور مشرقی بحرالکاہل میں منشیات اسمگلنگ کے الزام میں متعدد بحری حملے کر چکی ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ان کارروائیوں کے جواز میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا، جس کے باعث ان حملوں کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان بحری حملوں میں اب تک کم از کم 107 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 30 سے زائد حملے کیے گئے ہیں۔

یہ صورتحال لاطینی امریکہ میں ایک نئی کشیدگی کی علامت سمجھی جا رہی ہے، جس کے خطے اور عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں