حیدرآباد (دکن فائلز) ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ممکنہ جانشین ہونے سے متعلق قیاس آرائیاں شدت اختیار کر گئی ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ 88 رکنی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم ایرانی سرکاری حلقوں نے اس خبر کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے مجلس خبرگان (اسمبلی آف ایکسپرٹس) کا اجلاس جاری ہے اور حتمی فیصلے میں تقریباً ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ایران کے آئین کے تحت سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار اسی مجلس کے پاس ہے، جس کے اراکین کا انتخاب ہر آٹھ سال بعد عوامی ووٹوں سے ہوتا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای 1969ء میں مشہد میں پیدا ہوئے اور وہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بڑے بیٹے ہیں۔ انہوں نے تہران کے الوی ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں قم میں دینی تعلیم حاصل کی۔ اگرچہ وہ کئی دہائیوں سے مذہبی تعلیم سے وابستہ ہیں، تاہم انہیں تاحال آیت اللہ کا درجہ حاصل نہیں ہوا، جو ایران میں سپریم لیڈر کے منصب کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایران۔عراق جنگ کے دوران انہوں نے حبیب بٹالین میں خدمات انجام دیں اور بعد ازاں سپریم لیڈر کے دفتر میں ایک بااثر شخصیت کے طور پر جانے گئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ان کے قریبی روابط انہیں طاقتور حلقوں میں اثر و رسوخ فراہم کرتے ہیں۔ 2019ء میں امریکہ نے ان پر پابندیاں عائد کیں اور بعض مغربی حکومتوں نے ان پر انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات لگائے، جنہیں ایرانی حکام مسترد کرتے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کٹز نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایران میں کوئی نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تو اسرائیلی فوج اسے بھی نشانہ بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی قیادت اگر اسرائیل یا امریکہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھتی ہے تو وہ واضح ہدف ہوگی، چاہے اس کا نام کچھ بھی ہو یا وہ کہیں بھی موجود ہو۔
عرب خبر رساں ادارے الجزیرہ کی نمائندہ ندا ابراہیم کے مطابق اسرائیلی حکام ماضی میں بھی ایرانی قیادت تک رسائی کے دعوے کرتے رہے ہیں اور حالیہ بیانات اسی پالیسی کا تسلسل معلوم ہوتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قیادت کو ہدف بنانے کی حکمت عملی اسرائیل کی سیکیورٹی پالیسی کا حصہ رہی ہے، تاہم ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔


