حیدرآباد (دکن فائلز) بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے جڑے حجاب تنازع کے مرکز میں رہنے والی اے وائی یو ایس ایچ ڈاکٹر نصرت پروین نے بالآخر 23 دن کی تاخیر کے بعد اپنی ڈیوٹی سنبھال لی ہے۔ بڑھتے ہوئے انتظامی دباؤ کے باعث انہوں نے معمول کے طریقۂ کار کے برعکس سول سرجن کے دفتر میں رپورٹ کرنے کے بجائے براہِ راست محکمۂ آیوش میں اپنی جوائننگ کی کارروائی مکمل کی۔
ڈاکٹر نصرت پروین نے پٹنہ کے قدم کنواں علاقہ میں واقع ایک میڈیکل کالج سے اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔ انہیں اصل طور پر 20 دسمبر کو اپنی تقرری جوائن کرنی تھی، تاہم ریاستی حکومت نے پہلے ان کی مدت 31 دسمبر تک بڑھائی اور بعد ازاں آخری موقع دیتے ہوئے 7 جنوری تک کی مہلت دی تھی۔
یہ تنازع 15 دسمبر کو اس وقت پیدا ہوا جب پٹنہ میں نئے منتخب ڈاکٹروں کو تقرری کے خطوط تقسیم کرنے کے دوران وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مبینہ طور پر ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب کھیچنے کی کوشش کی۔ اس واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پہلے خاتون ڈاکٹر کے چہرے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور پھر اچانک زبردستی ان کا نقاب ہٹا دیتے ہیں۔ اس واقعہ کو مسلم خاتون کی بیحرتی قرار دیا جارہا ہے۔
اس ویڈیو پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا اور ملک بھر میں مسلمانوں نے سخت احتجاج کیا جبکہ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر اعلیٰ پر سخت تنقید کی۔ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سوال اٹھایا، “نتیش جی کو کیا ہو گیا ہے؟” لالو پرساد یادو کی قیادت والی پارٹی نے مزید کہا، “کیا ان کی ذہنی حالت انتہائی قابلِ رحم ہو چکی ہے یا نتیش بابو سو فیصد سنگھی بن گئے ہیں؟”
تنازعہ کے دوران جھارکھنڈ کے وزیر صحت عرفان انصاری نے ڈاکٹر نصرت پروین کو جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمت کی پیشکش بھی کی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ اگر وہ جھارکھنڈ میں خدمات انجام دینا چاہیں تو انہیں ماہانہ تین لاکھ روپے تنخواہ، اپنی پسند کی پوسٹنگ، سرکاری فلیٹ اور مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
بالآخر ڈاکٹر نصرت پروین نے بہار میں ہی اپنی ملازمت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔


