حیدرآباد (دکن فائلز) تاریخی شہر حیدرآباد اپنی شاندار تہذیب، شائستگی اور گنگا جمنی ثقافت کے لیے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ یہاں کی روایات، آداب اور طرزِ زندگی پر ہر حیدرآبادی کو فخر ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو نے اس تہذیبی تشخص کو مجروح کرنے کا کام کیا ہے، جس پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
ٹی وی نائین کی رپورٹ اور وائرل ویڈیو کے مطابق حیدرآباد کے گولکنڈہ حدود میں بیچ سڑک شادی کی بارات کے دوران ایک خاتون دو چاقو ہاتھوں میں لے کر سڑک پر رقص اور خطرناک حرکات اسٹنٹ کر رہی ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس دوران خاندان کے مرد حضرات نہ صرف اس عمل کو روکنے کے بجائے خاتون کی حوصلہ افزائی اور تائید کرتے نظر آ رہے ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ طرزِ عمل نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ حیدرآبادی تہذیب، شرافت اور وقار کے بھی سراسر منافی ہے۔ شادی جیسی خوشی کی تقریب کے موقع پر غیر مہذب مظاہرے قابلِ مذمت ہے۔
حیدرآبادی عوام اور سماجی حلقوں نے اس واقعہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے یا وقتی جوش میں اس طرح کے خطرناک اسٹنٹس نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی جان کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ ماضی میں ایسی حرکتوں کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، اس کے باوجود سبق نہ سیکھنا تشویشناک ہے۔
شہری سوال کررہے ہیں کہ “کیا یہی حیدرآبادی تہذیب ہے؟ کیا ہماری آنے والی نسلوں کو یہی پیغام دیا جا رہا ہے؟”
تاریخی شہر حیدرآباد کی تہذیب، شرافت اور وقار کی حفاظت کرنا ہر حیدرآبادی کا فرض ہے۔ شہر کے باضمیر شہریوں کا کہنا ہے کہ “حیدرآباد کی شناخت اس کی محبت، شائستگی اور تہذیب سے ہے، اور اسے کسی بھی قیمت پر مجروح نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔”


