حیدرآباد (دکن فائلز) تلنگانہ حکومت نے نئی گاڑیاں خریدنے والوں کے لیے ایک بڑی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ اب گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے عوام کو آر ٹی اے دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں ہوگی، بلکہ گاڑی خریدنے کے بعد اسی شو روم میں مستقل رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا جا سکے گا۔
وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں حکومت نے شفاف اور تیز رفتار عوامی خدمات کے مقصد سے یہ اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی اور وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر کی ہدایات پر محکمہ ٹرانسپورٹ کے کمشنر ایلمبرتی نے جمعرات کو اس سلسلے میں احکامات جاری کیے۔ انہوں نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ اس نئی پالیسی کے نفاذ کے لیے ضروری سافٹ ویئر آئندہ 15 دنوں میں تیار کیا جائے۔
نئے نظام کے تحت گاڑیوں کے ڈیلر ہی خریدار سے تمام ضروری دستاویزات، جن میں انوائس، فارم-21، فارم-22، انشورنس اور پتہ کے ثبوت شامل ہیں، حاصل کرکے انہیں آن لائن اپ لوڈ کریں گے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کا افسر ان دستاویزات کی آن لائن جانچ کرے گا اور ڈیجیٹل منظوری دے گا۔ اس کے بعد گاڑی کو رجسٹریشن نمبر الاٹ کیا جائے گا اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹ (آر سی) براہ راست مالک کے پتے پر بذریعہ ڈاک بھیج دیا جائے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عوام کا قیمتی وقت بچے گا، آر ٹی اے دفاتر پر دباؤ کم ہوگا اور رجسٹریشن کے عمل میں بدعنوانی پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم یہ سہولت صرف ذاتی استعمال کے لیے خریدی جانے والی نئی کاروں اور موٹر سائیکلوں تک محدود ہوگی۔ کمرشل گاڑیوں کی رجسٹریشن بدستور آر ٹی اے دفاتر میں ہی کی جائے گی۔
اسی طرح فینسی نمبر لینے کے خواہشمند افراد کو محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے نئی سیریز کے اجرا تک انتظار کرنا ہوگا۔ تلنگانہ میں روزانہ اوسطاً تین ہزار کے قریب گاڑیاں رجسٹر ہوتی ہیں، جس کے پیش نظر اس نئے نظام سے لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔ اس عمل کے لیے مرکزی حکومت کے ’واہن‘ اور ’سارتھی‘ پورٹلز کا مکمل استعمال کیا جائے گا، جبکہ ڈیلرز کے پاس موجود گاڑیوں کے اسٹاک کی اچانک جانچ کا اختیار محکمہ ٹرانسپورٹ کے پاس برقرار رہے گا۔


