حیدرآباد (پریس نوٹ) حیدرآباد میں واقع مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی (MANUU) کو محکمہ مال حکومت تلنگانہ کی جانب سے یونی ورسٹی کی اراضی کو واپس لینے کے سلسلے میں شو کاز نوٹس موصول ہوئ۔جس کے نتیجے میں تدریسی،غیر تدریسی اراکین اور طلباء میں شدید اضطراب اور بحران پیدا ہو گیا ہے۔
یونیورسٹی کے اساتذہ کی انجمن، MANUUTA اور آفیسرز ایسوسی ایشن نے ادارے کو مختص زمین کوواپس لینے کیے لیے محکمہ مال کی جانب سے جاری کردہ نوٹس پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس کی سخت الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ یہ انجمنیں یونیورسٹی کی مکمل حمایت میں سامنے آئی ہیں۔ ان انجمنوں نے واضح کیا ہے کہ ہم تعلیم کے اس گلشن اور مولانا آزاد کے نام سے لگائے گئے اس چمن کی ایک انچ زمین بھی کسی کو قبضہ کرنے نہیں دیں گے۔
اساتذہ کی انجمن، MANUUTA، اور آفیسرز ایسوسی ایشن کا یہ ماننا ہے کہ مانو کے تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی یہ ایک مذموم سازش ہے۔ یہاں خاص طور پر کمزوراور پسماندہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبا و طالبات کو معیاری تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ اس طرح سے یو نی ورسٹی کی اراضی کو واپس لینے کی یہ حرکت ان پسماندہ اور کمزور موقف کے طلبہ کی صلاحیتوں اور ترقی کو بری طرح متاثر کر دے گی۔
مانو کا قیام 1998 میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے قومی سطح کی اردو یونیورسٹی کے طورپر عمل میں آیا۔ اس یو نی ورسٹی کا قیام اردو میڈیم میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے اور اردو طبقے کے طلباء بالخصوص لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم او ر انھیں بااختیار بنانے کے مقصد کو پورا کرنے کا ایک منفرد قومی مینڈیٹ رکھتا ہے۔ تاریخی شہر حیدرآباد میں اس کا قیام شہر کے لیے نہایت اہمیت اور امتیاز کا حا مل ہے۔
قومی سطح کی سنٹرل یونیورسٹی اپنے محدود کیمپس سائز کے باوجود اپنے قیام سے ہی ان لوگوں کو اعلیٰ تعلیم تک رسائی فراہم کرنے کے لیے انتھک محنت کر رہی ہے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ نہایت ہی کم عرصہ میں عصری ٹکنالوجی سے لیس ۔ختلف شعبوں کی وسعت اور جدید مضامین کی شروعات نیز طلباء کی شاندار حصولیابیاں اس کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
MANUUTA اور آفیسرز ایسوسی ایشن کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مانو کی زمین نہایت ضروری اور ناقابل سمجھوتہ ہے۔ مانو کی زمین پر کوئی بھی کٹوتی براہ راست ان طلباء کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے جو رسائی، وقار اور سماجی نقل و حرکت کے لیے سرکاری اعلیٰ تعلیم پر انحصار کرتے ہیں۔یونیورسٹی کو پہلے ہی طلباء کے ہاسٹلز، تعلیمی اور تحقیقی انفراسٹرکچر، فیکلٹی اور اسٹاف کوارٹرز، لائبریریوں اور لیبارٹریوں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ مجوزہ زمین کی کٹوتی ان مسائل کو مزید بڑھا دے گی اور ادارے کی ترقی کو نقصان پہنچائے گی۔
ان انجمنوں نے حکومت تلنگانہ سے اپیل کی ہے کہ وہ MANUU کی اراضی پر دوبارہ دعویٰ کرنے یا اسے کم کرنے کے لیے کسی بھی نوٹس یا تجویز کو فوری واپس لے اور حکومت ہند، وزارت تعلیم اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے یونیورسٹی کے کیمپس کو برقرار رکھنے اور اسے بڑھانے کے حق کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔اس اقدام نے ماہرین تعلیم، سول سوسائٹی اور شہریوں میں بڑے پیمانے پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ان انجمنوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگرتلنگا نہ حکومت نوٹس واپس نہیں لے گی تو وہ خاموش نہیں رہیں گے بلکہ اپنی صدائے احتجاج کو بلند کریں گے۔


