حیدرآباد (دکن فائلز) چھتیس گڑھ کے مہاسمند ضلع میں ششماہی امتحان کے انگریزی پرچے میں ایک سوال نے شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ سوال میں ایک لڑکی ’’مونا‘‘ کے کتے کے نام کی شناخت پوچھی گئی تھی، جس کے اختیارات میں ’’رام‘‘ کا نام بھی شامل تھا۔ اس پر ہندو دائیں بازو کی تنظیموں نے اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں، کیونکہ رام ہندوؤں کے نزدیک نہایت مقدس نام ہے۔
دی نیوز انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق متنازعہ سوال میں چار اختیارات دیے گئے تھے: ’’رام‘‘، ’’بالا‘‘، ’’شیرو‘‘ اور ’’کوئی نام درج نہیں‘‘۔ جیسے ہی یہ سوال سامنے آیا، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنان نے مہاسمند میں ضلع تعلیمی افسر (ڈی ای او) وجے لاہرے کے دفتر کے باہر احتجاج کیا اور ان کا پُتلا نذرِ آتش کیا۔
مظاہرین نے ضلع کلکٹر ونے کمار لانگے کو ایک یادداشت بھی سونپی اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ضلع کلکٹر نے کہا کہ انہیں اس معاملے میں شکایت موصول ہوئی ہے اور ڈی ای او سے تفصیلی رپورٹ طلب کی گئی ہے، جس کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق، یہ ششماہی سوالیہ پرچے مہاسمنُد سے تقریباً 150 کیلومیٹر دور راجناندگاؤں ضلع میں چھپوائے گئے تھے۔ ڈی ای او وجے لاہرے نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پرنٹر نے مبینہ طور پر اصل سوال میں خود سے تبدیلی کی اور اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اس کے لیے ذمہ دار نہیں ہے۔


