حیدرآباد (دکن فائلز) معروف فلم اداکار اور سماجی کارکن پرکاش راج نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر شدید الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکمران نظریہ مسلمانوں، قبائلیوں اور دیگر اقلیتوں کو ختم کرنے کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں زبردست تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
پرکاش راج نے یہ بات حیدرآباد میں Association for Protection of Civil Rights اے پی سی آر کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک جلسے سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کی تقریر کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد بی جے پی اور اس کے حامیوں کی جانب سے سخت ردِعمل سامنے آیا ہے۔
اپنی تقریر میں پرکاش راج نے کہاکہ ’براہِ کرم سمجھنے کی کوشش کریں کہ اس ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ نسل کشی کی تیاری ہے۔ وہ مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں، قبائلیوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اقلیتوں کو مٹانا چاہتے ہیں۔ یہی ان کا ایجنڈا ہے‘۔
انہوں نے آر ایس ایس کو اصل طاقت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی صرف پانی پر تیرتا ہوا ’’کنول‘‘ ہے، جبکہ اصل قوت پانی کے نیچے موجود ’’دیو‘‘ یعنی آر ایس ایس کے ہاتھ میں ہے۔ پرکاش راج نے عدلیہ پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’شرم کرو ہندوستان کی عدالتوں، تم انصاف کا قتل کر رہی ہو۔‘‘
انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے ’’یومِ آئین‘‘ (26 نومبر) پر بھیجے گئے ایک ای میل کو بھی ’’جھوٹ سے بھرا ہوا خط‘‘ قرار دیا۔ اداکار نے الزام لگایا کہ موجودہ حکمران آئین کو بدل کر منوسمرتی نافذ کرنا چاہتے ہیں اور اقلیتوں و اختلاف رکھنے والے شہریوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
پرکاش راج کے بیان پر بی جے پی اور اس کے حامیوں نے سخت اعتراض کرتے ہوئے ان الزامات کو بے بنیاد، اشتعال انگیز اور ملک دشمن قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ بی جے پی حامیوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ نو برسوں میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں نے حکومت کی متعدد فلاحی اسکیموں سے فائدہ اٹھایا ہے، جن میں غریبوں کے لیے مکانات، اجولا گیس، بیت الخلا، طبی بیمہ اور اقلیتوں کے لیے وزیراعظم کا 15 نکاتی پروگرام شامل ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ پارٹی ’’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘‘ کے نعرے پر عمل پیرا ہے اور مذہب یا ذات کی بنیاد پر تفریق نہیں کرتی۔


