حیدرآباد (دکن فائلز کی خصوصی رپورٹ) عالمی سطح پر سونے کی قیمتوں میں مسلسل تیزی نے ایک بار پھر سرمایہ کاروں کی توجہ اس روایتی محفوظ اثاثہ کی جانب مبذول کرا دی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بالخصوص ایران سے جڑے خدشات، امریکہ میں فیڈرل ریزرو پر سیاسی دباؤ اور امریکی معیشت سے آنے والے کمزور اعداد و شمار نے عالمی منڈیوں میں بے یقینی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان حالات میں سونا ایک بار پھر “سیف ہیون” یعنی محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں نے تیزی سے اضافہ جاری، قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ 24 قیرات ایک تولہ سونے کی قیمت ایک لاکھ 46 ہزار 400 روپئے سے زائد ہوگئی۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب عالمی سیاست یا معیشت میں خطرات بڑھتے ہیں تو سرمایہ کار حصص بازار یا دیگر غیر یقینی شعبوں کے بجائے سونے جیسے محفوظ اثاثوں کا رخ کرتے ہیں۔ یہی رجحان ہندوستانی مارکٹس میں بھی دیکھا جا رہا ہے جہاں عالمی قیمتوں کے اثر کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر اور مقامی طلب نے سونے کو مزید مہنگا کر دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی منڈیاں
حالیہ ہفتوں میں ایران سے متعلق جغرافیائی سیاسی تناؤ نے عالمی سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا رکھا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی ممکنہ تصادم کا خدشہ نہ صرف توانائی بلکہ مالیاتی منڈیوں کو بھی متاثر کرتا ہے، جس کا براہ راست فائدہ سونے کو ملتا ہے۔ اسی دوران امریکہ کی لیبر مارکیٹ سے آنے والے کمزور اعداد و شمار نے یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ امریکی معیشت کی رفتار سست پڑ سکتی ہے، جو سونے کی قیمتوں میں اضافے کا ایک اور سبب بن رہا ہے۔
امریکہ–ایران بات چیت: وقتی ریلیف یا مستقل حل؟
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی بات چیت کی خبریں اگرچہ مارکیٹ میں وقتی سکون لا سکتی ہیں، لیکن مجموعی غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سفارتی پیش رفت ہوئی تو سونے کی قیمتوں میں عارضی استحکام یا معمولی کمی آ سکتی ہے، تاہم کسی بھی سخت سیاسی یا عسکری قدم کی صورت میں قیمتیں دوبارہ نئی بلندیوں کو چھو سکتی ہیں۔
ہندوستانی سرمایہ کاروں کے لیے کیا معنی؟
ہندوستان میں سونا نہ صرف زیورات بلکہ سرمایہ کاری اور بچت کا بھی اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ دہلی، حیدرآباد، ممبئی، کولکاتا اور چنئی کی صرافہ منڈیوں کے تاجروں کے مطابق حالیہ مہینوں میں سرمایہ کاری کے مقصد سے سونے کی خریداری میں اضافہ ہوا ہے۔
اگرچہ قیمتوں میں اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے، لیکن اس کا منفی پہلو یہ ہے کہ شادی بیاہ اور زیورات کے لیے سونا عام لوگوں کی پہنچ سے مزید دور ہوتا جا رہا ہے، جس کا دباؤ خاص طور پر متوسط طبقہ پر پڑ رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں سونے کی قیمتوں کا انحصار تین اہم عوامل پر ہوگا:
1. عالمی جغرافیائی سیاست، خاص طور پر امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کے تعلقات
2. امریکی شرحِ سود سے متعلق فیصلے
3. عالمی معیشت کی مجموعی سمت
اگر عالمی کشیدگی میں کمی آتی ہے تو سونے میں عارضی کمی ممکن ہے، لیکن اگر حالات مزید بگڑتے ہیں تو سونا ایک بار پھر ہندوستانی سرمایہ کاروں کے لیے سب سے محفوظ انتخاب بن سکتا ہے۔


