ایمان سب سے قیمتی سرمایہ، حفاظت کےلئے ہر قربانی معمولی! کاماریڈی میں عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد، علماء کرام کے فکرانگیز، ایمان و بصیرت افروز خطابات

کاماریڈی (پریس نوٹ) مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت ایجوکیشنل اینڈ چیاریٹیبل ٹرسٹ کاماریڈی کے زیرِ اہتمام منعقدہ عظیم الشان اور فقید المثال تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس میں عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی اہمیت اس کے تحفظ کی اجتماعی ذمہ داری اور عصرِ حاضر کے فتنوں کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے فرائض پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی کانفرنس میں علماء کرام ائمہ، معلمین کارکنانِ ختمِ نبوت معززینِ شہر اور عام مسلمانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

کانفرنس کا باضابطہ آغاز حافظ عبدالواجد علی حلیمی امام و خطیب مسجد محبوب صالحین کی پُرسوز قرأتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد معلمینِ کرام اور طلباء مکاتبِ قرآنیہ نے حمد نعت اور نظم پیش کر کے محفل کو روحانی فضا سے معطر کیا مولانا نظرالحق قاسمی نگرانِ مجلس نے نظامت کے فرائض انجام دیئےجبکہ حافظ یوسف حلیمی انور صدر مسجد نور کاماریڈی نے مہمانانِ گرامی کا شکریہ ادا کیا اور کانفرنس کے منظم و باوقار انعقاد کو سراہا۔

اس موقع پر مولانا سید منظور احمد مظاہری معلم مکتب مسجد محمدیہ نے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کاماریڈی کی تفصیلی کارکردگی مخیر حضرات کے تعاون، معلمینِ کرام کی تنخواہوں اور دیگر انتظامی و مالی امور سے حاضرین کو آگاہ کیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مفتی منور حسین قاسمی (خطیب مسجد قمر حفیظ پیٹ) نے فرمایا کہ عقیدہ محض ایک نظریہ نہیں بلکہ دل میں راسخ وہ پختہ یقین ہے جو کسی بھی آزمائش میں متزلزل نہیں ہوتا۔

انہوں نے واضح کیا کہ سخت ترین حالات، حتیٰ کہ جان چلی جانے کے باوجود سچا عقیدہ دل سے نہیں نکلتا مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح کسی اہم دستاویز کو مہر بند کر دیا جاتا ہے تاکہ اس میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ ہو اسی طرح امتِ مسلمہ کے دلوں پر یہ بنیادی عقیدہ مہر بند ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں، جس میں کسی شک شبہ یا تاویل کی کوئی گنجائش نہیں۔

انہوں نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کی مثال پیش کرتے ہوئے حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کے واقعے کا ذکر کیا اور کہا کہ کفارِ مکہ کے شدید مظالم کے باوجود ان کا عقیدہ ذرہ برابر متزلزل نہ ہوا اور ان کی زبان پر ہر حال میں اَحد، اَحد کی صدا رہی ختمِ نبوت کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لفظ ختم کے معنی اختتام اور تکمیل کے ہیں اور نبی اکرم ﷺ کو خاتمُ الانبیاء بنا کر نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے مکمل کر دیا گیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ اسلام کے بنیادی، قطعی اور اجماعی عقائد میں سے ہے، اور اگر کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہ کرے تو وہ دائرۂ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ مزید برآں انہوں نے موجودہ دور میں سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے پھیلائے جا رہے گمراہ کن مواد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محض جذباتی ردِعمل کے بجائے علم، فہم اور بصیرت کے ساتھ ان فتنوں کا مقابلہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

کانفرنس سے کلیدی خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا شاہ جمال الرحمن مفتاحی (امیرِ شریعت و صدر مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت ٹرسٹ تلنگانہ و آندھرا) نے فرمایا کہ ایمان انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے جس کا دنیا کی کسی بھی دولت سے کوئی موازنہ نہیں کیا جاسکتا انہوں نے کہا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے ایمان کی حفاظت کے لئے گھر بار، وطن، مال و اسباب اور حتیٰ کہ جان تک قربان کردی مگر ایمان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاانہوں نے زور دے کر کہا کہ آج امتِ مسلمہ کو اسی حقیقت کو دوبارہ سمجھنے اور اپنے دلوں میں ایمان کی قدر و قیمت تازہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسی مقصد کے پیشِ نظر یہ عظیم الشان کانفرنس منعقد کی گئی ہے تاکہ عام مسلمانوں کو ایمان کی اصل اہمیت اس کے تحفظ کی ذمہ داری اور اس سے وابستہ تقاضوں سے آگاہ کیا جاسکے۔

انہوں نے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کاماریڈی کی طویل اور منظم جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ عرصۂ دراز سے دینی بیداری اور باطل فتنوں کے سدِّباب کے لئے قابلِ قدر خدمات انجام دے رہا ہے۔ اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر مجلس مولانا ابرار الحسن رحمانی نے فرمایا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کا تحفظ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ اور بنیادی ذمہ داری ہے اور اس فریضے کو اپنی تمام مصروفیات اور ترجیحات پر مقدم رکھا جانا چاہیے انہوں نے واضح کیا کہ اکثر لوگ شادی بیاہ اور سماجی تقریبات کے لیے تو وقت نکال لیتے ہیں مگر دینی عقائد کے تحفظ کے معاملے میں غفلت برتتے ہیں جو مختلف باطل فتنوں کے پھیلنے کا سبب بن رہی ہے۔ انہوں نے اس تصور کی صراحت کے ساتھ نفی کی کہ عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کا تحفظ کسی مخصوص طبقے یا ادارے کی ٹھیکے داری ہے بلکہ ہر مسلمان کو فکری شعور دینی غیرت اور بیداری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

اس موقع پر انہوں نے حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ کا ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اکابرِ امت کے نزدیک ایمان کی حفاظت دنیاوی رشتوں آسائشوں بلکہ جان سے بھی زیادہ عزیز تھی خطاب کے اختتام پر مولانا رحمانی نے مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کاماریڈی سے وابستہ معلمینِ کرام کو درپیش مالی مشکلات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اہلِ خیر اور صاحبِ استطاعت حضرات سے اپیل کی کہ وہ دل کھول کر تعاون کریں تاکہ یہ عظیم دینی خدمت پوری قوت تسلسل اور استحکام کے ساتھ جاری رہ سکے اس موقع پر مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے حکومتِی مشیر الحاج محمد علی شبیر نےمسلمانوں پر زور دیا کہ وہ حالاتِ حاضرہ کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے فکری تعلیمی اور سماجی اعتبار سے خود کو تیار رکھیں اور بیدار شعور کے ساتھ آگے بڑھیں انہوں نےبالخصوص دیہی علاقوں میں مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت ایجوکیشنل اینڈ چیاریٹیبل ٹرسٹ کے تحت انجام دی جانے والی دینی و تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کام آنے والی نسلوں کے ایمان کے تحفظ کی مضبوط بنیاد ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دیہات میں ائمہ کی باقاعدہ تقرری مکاتبِ دینیہ کا قیام اور ان کے نظام کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو صحیح دینی تربیت میسر آسکے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو علماء کرام کی رہبری میں منظم انداز سے کام کرتے ہوئے بدلتے حالات کے مطابق ملک و ملت کی تقدیر سنوارنے میں اپنامثبت اور مؤثر کردار اداکرناچاہئےاختتام پر انہوں نے عملی اور فکرانگیز رہنمائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر امتِ مسلمہ دینی شعورتعلیمی بیداری اور اجتماعی نظم و ضبط کو اپنا شعار بنا لے تو وہ نہ صرف اپنے ایمان کی حفاظت کر سکتی ہے بلکہ دین و دنیا دونوں میں باوقار مقام بھی حاصل کر سکتی ہے۔

الحاج محمد علی شبیر نے مسلمانوں کی فلاح وبہبودگی میں کئے گئے تعمیراتی کاموں بالخصوص قبرستان دیگر کا پروگرام پیش کئےاسی دوران ناظمِ کانفرنس حافظ محمدفہیم الدین منیری نے اپنے خطاب میں بتایا کہ مولانا ابرار الحسن رحمانی کی صدارت میں مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کاماریڈی گزشتہ پچیس برسوں سے عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے تحفظ کے لئے شبانہ روز مصروفِ عمل ہے انہوں نے کہا کہ کارکنان اور معلمینِ کرام کی یہ مسلسل جدوجہد اس بات کی روشن مثال ہے کہ محدود وسائل کے باوجود کس طرح ایک عظیم دینی فریضہ انجام دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے بموجب اس وقت مجلس کے تحت تقریباً پچھتر (75) معلمینِ کرام ضلع کے مختلف علاقوں میں قائم پچاسی (85) مکاتبِ قرآنیہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ مکاتب ایسے دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں قائم ہیں جہاں بنیادی سہولتوں کا بھی فقدان ہے نہ کسی قسم کا اعزاز و اکرام ہےاور نہ ہی مادی مراعات، اس کے باوجود معلمینِ کرام انتہائی تندہی فکری یکسوئی اور خلوصِ نیت کے ساتھ نسلِ نو کی دینی تربیت میں مصروف ہیں واضح رہے کہ انہی کارکنان اورنوجوانوں کی جہدِ مسلسل کے نتیجے میں پورے علاقے کو قادیانیت جیسے باطل فتنے سے بڑی حد تک پاک کیا جاچکا ہے سوائے ایک ایسے گاؤں کے جہاں یہ فتنہ موروثی طور پر موجود ہے۔

حافظ فہیم الدین منیری نے اس جدوجہد کو مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور معلمینِ کرام کی بے لوث خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ملت سے اپیل کی کہ ان کے ساتھ اکرام عزت اور قدر دانی کا معاملہ کیا جائے کیونکہ یہی حضرات عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کے تحفظ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہے ہیں واضح رہے کہ یہ عظیم الشان کانفرنس کارکنانِ ختمِ نبوت معلمینِ مکاتبِ قرآنیہ دیہی صدور، ائمہ اور معلمین کی طویل، مسلسل اور بے لوث جدوجہد کا شاندار مظہر ثابت ہوئی مجموعی طور پر یہ اجتماع نہ صرف عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ کی حفاظت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا مؤثر ذریعہ بنا بلکہ دینی غیرت علمی بصیرت اور اجتماعی بیداری کی ایک روشن اور قابلِ تقلید مثال بھی پیش کر گیا محترم جناب عباس صاحب تعمیر کردہ مسجد عباس گلشن شبیر کاماریڈی کو تہنیت پیش کی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں