مہاراشٹرا بلدی انتخابی نتائج: بی جے پی اتحاد کی سونامی، مجلس اتحاد المسلمین کی تاریخی کامیابی

حیدرآباد (دکن فائلز) مہاراشٹرا کے بلدیاتی انتخابات کے نتائج نے ریاست کی سیاست میں ایک نئی حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے۔ اگرچہ بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی نے بیشتر میونسپل کارپوریشنز میں سبقت حاصل کی، مگر اسدالدین اویسی کی قیادت میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین نے غیر معمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے خود کو ایک مضبوط اور فیصلہ کن سیاسی قوت کے طور پر منوایا ہے۔

مجلس اتحاد المسلمین نے ریاست کی 29 بلدیاتی کارپوریشنز میں مجموعی طور پر 129 نشستیں جیت کر نہ صرف اپنی سابقہ کارکردگی کو بہتر بنایا بلکہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (NCP) اور مہاراشٹرا نونرمان سینا (MNS) جیسی جماعتوں سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔

مجلس کی سب سے بڑی کامیابی اورنگ آباد میں رہی، جہاں پارٹی نے 113 میں سے 33 نشستیں جیت کر دوسری سب سے بڑی جماعت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ یہاں بی جے پی کو 58 نشستیں ملیں، جبکہ شیو سینا اور شیو سینا (یو بی ٹی) پیچھے رہ گئیں۔

مالیگاؤں میں مجلس نے 20 سے زائد نشستیں حاصل کر کے اپنی مضبوط موجودگی درج کرائی اور دوسری بڑی جماعت کے طور پر ابھری۔ یہ شہر مسلم آبادی کی اکثریت کے باعث ہمیشہ سیاسی طور پر اہم رہا ہے۔

دیگر شہروں میں مجلس کی کارکردگی کچھ یوں رہی:
امراوتی: 15 نشستیں
ناندیڑ: 14 نشستیں
دھولیہ: 10 نشستیں
ممبئی: 8 نشستیں
سولاپور: 8 نشستیں
ناگپور: 7 نشستیں
تھانے: 5 نشستیں
آکولہ: 3 نشستیں
جالنہ : 2 نشستیں
احمد نگر: 2 نشستیں
چندرپور: 1 نشست

ملک کی سب سے امیر بلدیہ بریہن ممبئی میونسپل کارپوریشن میں بھی مجلس نے اپنی موجودگی درج کراتے ہوئے 8 نشستیں جیتیں۔ یہ کامیابیاں زیادہ تر مسلم اکثریتی علاقوں جیسے شیواجی نگر، گوونڈی، مانخُرد اور انوشکتی نگر سے حاصل ہوئیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہری سطح پر مجلس کی جڑیں مزید مضبوط ہو رہی ہیں۔

پارٹی کے ریاستی صدر اور سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل نے اس کامیابی کو منظم حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کے مطابق: “اس بار ہم نے امیدواروں کے انتخاب پر خصوصی توجہ دی، خاص طور پر اورنگ آباد میں عام کارکنوں کو ٹکٹ دیا گیا۔ اس کے علاوہ ہم نے ایس سی، ایس ٹی اور او بی سی طبقات سے تعلق رکھنے والے غیر مسلم امیدوار بھی میدان میں اتارے۔”

یہ حکمت عملی مجلس کو صرف ایک فرقہ وارانہ جماعت کے تاثر سے نکال کر ایک ہمہ گیر سیاسی متبادل کے طور پر پیش کرتی ہے۔

جہاں بی جے پی کی قیادت والی مہایوتی 29 میں سے 25 بلدیاتی کارپوریشنز میں اقتدار کی جانب بڑھ رہی ہے، وہیں مجلس اتحاد المسلمین کی شاندار پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ ریاست کی سیاست میں اب ایک نیا اور مضبوط مسلم نمائندہ پلیٹ فارم ابھر چکا ہے۔

ان نتائج نے واضح کر دیا ہے کہ مجلس نہ صرف مسلم اکثریتی علاقوں میں بلکہ شہری سیاست کے وسیع تر منظرنامے میں بھی ایک اہم کردار ادا کرنے جا رہی ہے۔ مستقبل کے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات میں یہ کامیابی مجلس کے لیے ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔

مہاراشٹرا میں پارٹی کی شاندار کامیابی کے بعد حیدرآباد میں بھی مجلس کے حامیوں نے جشن منایا اور خوشی کا اظہار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں