مسلم شہریوں پر زبردستی ہولی کا رنگ پھینکنے کے بعد تنازعہ! 8 مسلمانوں سمیت 100 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج

حیدرآباد (دکن فائلز) اترپردیش کے ضلع شاہ جہاں پور میں ہولی کے موقع پر رنگ ڈالنے کے تنازع نے پرتشدد شکل اختیار کر لی جس کے بعد پولیس نے آٹھ مسلمانوں اور تقریباً 108 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔

مسلم مرر کی رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ اللہ گنج پولیس اسٹیشن کے تحت آنے والے ماؤ رسول پور گاؤں میں پیش آیا۔ مسلم مرر کی رپورٹ کے مطابق ہولی کے دن ہندو برادری کے چند افراد رنگ کھیل رہے تھے اور مبینہ طور پر ایک مسلمان شخص پر زبردستی رنگ ڈال دیا جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تکرار شروع ہو گئی۔

پولیس کے مطابق ابتدائی جھگڑے کے بعد اہلکار موقع پر پہنچے اور دونوں فریقوں کو سمجھا بجھا کر گھروں کو بھیج دیا۔ تاہم بعد میں جب دونوں گروہ دوبارہ جمع ہوئے اور معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی تو بحث شدت اختیار کر گئی اور مبینہ طور پر دونوں جانب سے پتھراؤ شروع ہو گیا۔

ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس راجیش دیویدی نے بتایا کہ اس جھڑپ میں تقریباً 11 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ واقعہ کے بعد پولیس نے احتیاطی طور پر دونوں برادریوں کے 20 افراد کو حراست میں لیا جن میں 10 ہندو اور 10 مسلمان شامل تھے۔ بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔

دیویانشو نامی شخص کی شکایت پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرتے ہوئے آٹھ افراد کو نامزد کیا ہے جن میں زید علی، شاہین علی، عقیل احمد، عظیم، سہیل، عامر، حسرت اور دیگر شامل ہیں، جبکہ تقریباً سو نامعلوم افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ مقدمہ بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے اور معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کے مطابق فی الحال گاؤں میں صورتحال پرامن ہے تاہم احتیاطی طور پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں