حیدرآباد (دکن فائلز) گنگا جمنی تہذیب کی علامت کہلانے والا حیدرآباد ایک بار پھر فرقہ وارانہ جنون اور حکومت و انتظامیہ کی دوہری پالیسی کا گواہ بنا۔ منگل کی رات منگل ہاٹ علاقے میں آشورخانہ شہزادہ قاسم پر شدت پسند درندوں کے ہجوم نے کھلے عام حملہ کیا، پتھراؤ کیا، دو گاڑیوں کو آگ لگا دی اور اطراف میں خوف و ہراس پھیلا دیا، جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہی۔
پولیس کے مطابق واقعہ کے بعد ایک مقدمہ درج کیا گیا ہے اور خصوصی ٹیمیں ملزمان کی شناخت میں مصروف ہیں، مگر سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک منظم ہجوم آشورخانہ پر پتھر برسا رہا ہے اور کھڑی گاڑیوں کو نذرِ آتش کر رہا ہے اور یہ سب کچھ پولیس کی موجودگی میں ہوا۔ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
اس سارے تشدد کی جڑ پورانا پل دروازہ علاقہ میں واقع میسامّا مندر کے سامنے لگے ایک فلیکس کو نقصان پہنچانا بتایا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ حرکت کسی شرابی شخص کی تھی، جسے غیرضروری فرقہ وارانہ رنگ دیکر کچھ شدت پسند درندوں نے حیدرآباد کے حالات کو بگاڑنے کی ناپاک کوشش کی گئی۔ معمولی واقعہ کو بنیاد بنا کر شدت پسند غنڈوں نے “مندر میں توڑ پھوڑ” کا بیانیہ کھڑا کیا اور بدلے کے نام پر شہر کی سڑکوں پر کئی گھنٹوں تک ننگا ناچ جاری رکھا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ درجنوں کی تعداد میں موجود ہجوم لاٹھیوں اور دیگر اشیا سے قبروں کو مسمار کر رہا ہے، مذہبی پرچم کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے اور “جے ایس آر” کے نعرے لگائے جا رہے ہیں، یہ سب کچھ پولیس اہلکاروں کے سامنے ہوا، مگر بروقت اور سخت کارروائی دکھائی نہیں دی۔
جب کاماٹی پورہ پولیس کو اطلاع ملی تو وہ موقع پر پہنچی، مگر حالات قابو میں آنے کے بجائے مزید بگڑ گئے۔ ہجوم کی تعداد تقریباً 300 تک جا پہنچی، پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، ایک شہری کی موٹر سائیکل نذرِ آتش کر دی گئی اور ایک ٹرک کا شیشہ توڑ دیا گیا، جس سے موسیٰ ندی کے کنارے واقع مصروف چوراہے پر ٹریفک مکمل طور پر ٹھپ ہو گئی۔ پتھراؤ میں کم از کم چار پولیس اہلکار اور ایک مقامی شہری زخمی ہوئے، جس کے بعد پولیس نے لاٹھی چارج کر کے ہجوم کو منتشر کیا۔
اس واقعہ کے بعد شہریوں کے ذہنوں میں کچھ سوالات اٹھ رہے ہیں’اگر یہی حرکت کسی مسلمان نے کی ہوتی تو کیا پولیس خاموش رہتی؟ کیا تب لاٹھی چارج کے بجائے براہِ راست فائرنگ نہ ہوتی؟ کیا ریونت ریڈی حکومت سافٹ ہندوتوا کے مشن کو آگے بڑھارہی ہے؟ کیا خود کو غیرجانبدار اور اصول کا پابند بتانے والے کمشنر پولیس سجنار پر سیاسی دباؤ ہے؟
ماضی میں ایسے کئی واقعات ریکارڈ پر ہیں جب معمولی ہنگامے کے نام پر پولیس نے بے قصور مسلم نوجوانوں پر گولیاں چلائیں، مگر اس بار کھلے عام عبادت گاہ پر حملہ، قبروں کی بے حرمتی اور آگ زنی کے باوجود سخت اور فوری کارروائی کیوں نظر نہیں آئی؟
یہ واقعہ نہ صرف حیدرآباد کی گنگا جمنی تہذیب پر بدنما داغ ہے بلکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر جانبداری پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی خاطیوں کا مذہب دیکھ کر پولیس کی جانب سے معمولی دفعات میں مقدمات درج کئے جائیں اور انہیں صرف کچھ دنوں کےلئے جیل میں رکھا جائے گا اور پھر ۔۔۔۔
دکن فائلز کی جانب سے اس واقعہ کے ویڈیوز کو شیئر نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ شہر کی پرامن فضا کو برقرار رکھا جاسکے۔ تمام شہریوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی جاتی ہے۔


